نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 356 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 356

جاتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے احکامات کے بجا لانے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں سستی اس لئے ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت انسان کو یاد نہیں رہتا۔انسان بھول جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر لمحہ اور ہر آن مجھ پر نظر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جولوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں، ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔“ ( رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309) تو یہ کم از کم کوشش ہے جو ہمیں اپنے اللہ پر ایمان لانے اور پھر ترقی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے کرنی چاہئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے اس طرح شروع کیا کہ اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُو۔یعنی صرف اللہ کو دیکھو کہ وہی تمہارا معبود ہے اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔یہ واضح فرما دیا کہ اللہ ہی تمام صفات کا جامع اور تمام قدرتوں کا مالک ہے اور اس ناطے وہی اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور تمام جھوٹے خداؤں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے ، بچتے ہوئے ، صرف اسی واحد خدا کے سامنے جھکا جائے۔فرمایا کہ اس واحد خدا کے سامنے جھکو گے تو پھر ہی دنیا و آخرت کے انعامات سے فیض پا سکتے ہو۔دنیا میں ہر چیز کا بدل مل سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا کوئی بدل نہیں ہے۔جب اس کا بدل نہیں ہے تو پھر بیوقوفی ہے کہ اسے چھوڑ کر کہیں اور جایا جائے۔یا عارضی طور پر ہی اپنی ترجیحات کو بدل دیا جائے۔ایک دہر یہ تو یہ کہہ سکتا ہے کہ میں کیونکہ خدا کو نہیں مانتا اس لئے میں کیوں اس کے در پر حاضر ہو جاؤں۔لیکن ایک مسلمان جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لا إلهَ إِلَّا اللہ اور پھر دنیاوی ذریعوں کو خدا سے زیادہ اہمیت دیتا ہے تو یہ یقیناً اس کی بدقسمتی ہے۔356