نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 349 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 349

ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جاتی ہے جنگ کی اس وجہ سے اجازت دی جاتی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے بلا قصور نکا لے گئے ہیں۔ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے ذریعہ سے بعض کا ہاتھ نہ روکتا تو مسیحیوں کے معبد اور راہبوں کے خلوت خانے اور یہود کی عبادتگا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے گرا دی جاتیں۔اور یقینا اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی تائید کرے گا اور اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور غالب ہے۔یہ آیات کس قدر کھلے الفاظ میں بتاتی ہیں کہ مذہبی جنگیں تبھی جائز ہیں جبکہ کوئی قوم ربنا اللہ کہنے سے روکے۔یعنی دین میں دخل دے اور چاہے کہ دوسری اقوام کے معاہد گرائے جائیں اور ان سے ان کا مذہب چھڑوایا جائے۔یا ان کو قتل کیا جائے۔ایسی صورت میں اسلام اس قوم سے جنگ کی اجازت دیتا ہے۔کیونکہ اسلام دنیا میں بطور شاہد اور محافظ کے آیا ہے نہ کہ بطور جابر اور ظالم کے۔فَمَن يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ کے متعلق یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ کفر کے معنے صرف انکار کرنے کے ہوتے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا انکار ہو۔قرآن کریم میں یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور برے معنوں میں بھی۔اس جگہ یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ شیطانوں اور شیطانی لوگوں کی باتیں ماننے سے قطعی طور پر انکار کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں وہ ایک مضبوط چٹان پر قائم ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں قرآن کریم میں يَكْفُرُونَ بِالله (نساء 151) بھی آتا ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں۔پس جہاں تک اس لفظ کے ظاہر کا تعلق ہے یہ نہ بُرا ہے نہ اچھا ہے۔اصل معنے تو اس کے ڈھانپ دینے کے ہوتے ہیں۔بدی کا ڈھانپنا بھی کفر کہلائے گا اور نیکی کاڈھانپنا بھی کفر کہلائے گا۔بدی کا چھپانا بھی کفر کہلائے گا اور نیکی کا چھپانا بھی کفر کہلائے گا۔لیکن چونکہ کثرت سے قرآن کریم میں یہ لفظ نیکی کے انکار کے متعلق استعمال 349