نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 305 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 305

الله لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَى القَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا تَوْم لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا مَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرة 256) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ جو جامع صفات کا ملہ اور مستحق عبادت ہے اس کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ حتی بالذات اور قائم بالذات ہے۔بجز اس کے کوئی چیز حتی بالذات اور قائم بالذات نہیں۔یعنی اس کے بغیر کسی چیز میں یہ صفت پائی نہیں جاتی کہ بغیر کسی علت موجدہ کے آپ ہی موجود اور قائم رہ سکے یا کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم اور موزون سے بنایا گیا ہے علت موجبہ ہو سکے۔اور یہ امر اس صانع عالم جامع صفات کاملہ کی ہستی کو ثابت کرنے والا ہے۔تفصیل اس استدلال لطیف کی یہ ہے کہ یہ بات یہ ہداہت ثابت ہے کہ عالم کے اشیاء میں سے ہر یک موجود جو نظر آتا ہے اس کا وجود اور قیام نظرًا على ذاته ضروری نہیں مثلاً زمین کروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے مگر اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں یہی شکل اور یہی مقدار اس کے لئے ضروری ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم ہو یا برخلاف شکل حاصل کے کسی اور شکل سے متشکل ہو اور جب اس پر کوئی دلیل قائم نہ ہوئی تو یہ شکل اور یہ مقدار جس کے مجموعہ کا نام وجود ہے زمین کے لئے ضروری نہ ہوا اور علی ہذا القیاس عالم کی تمام اشیاء کا وجود اور قیام غیر ضروری ٹھہرا۔اور صرف یہی بات نہیں کہ وجود ہر یک ممکن کا نظرًا على ذَاتِهِ غیر ضروری ہے بلکہ بعض 305