نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 285 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 285

آجاتی ہیں کیونکہ یہی دونوں نمازیں پڑھنا مشکل ہوتی ہیں۔جب ان کے متعلق فرما دیا تو باقی نمازیں خود بخود اس کے نیچے آگئیں۔تو نماز باجماعت پڑھنا ہر ایک مسلمان پر بہت بڑا فرض اور ایک اہم ذمہ داری ہے۔جو اس سے جی چراتا ہے خواہ زید و بکر کی لڑائی سے یا کسی اور وجہ سے وہ قطعاً اس قابل نہیں ہے کہ مومن احمدی کہلا سکے کیونکہ وہ خدا کا مجرم ہے اور میرے نزدیک اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی بے وقوف اور کم عقل نہیں ہو سکتا جو انسان سے لڑ کر خدا سے لڑائی شروع کر دے۔قاعدہ تو یہ ہے کہ جب کسی سے لڑائی ہو تو دوسروں کی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے۔دیکھو گورنمنٹ برطانیہ کی جب جرمنی سے لڑائی شروع ہوئی تو باوجود اس کے کہ بہت بڑی حکومت ہے چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔تو چونکہ لڑائی کے وقت انسان زیادہ دوستوں اور مددگاروں کا حاجت مند ہوتا ہے اس لئے اگر کسی کی کسی سے لڑائی ہو تو اس کو ضرورت ہے کہ اپنے زیادہ دوست بنائے اور خدا سے بڑھ کر اور کون دوست ہوسکتا ہے۔پس اس وقت جب کہ لڑائی نہ تھی ،امن تھا اگر خدا کو دوست بنانے کی کوشش کی جاتی تھی تو اب جبکہ ڈر ہے کہ دوسرے سے نقصان اٹھائے بہت زیادہ ضرورت ہے کہ خدا کو اپنا دوست اور مددگار بنائے۔اور یہ وقت ہے کہ وہ اس سے صلح کرے، نہ کہ لڑائی لیکن جو کسی سے لڑائی ہونے کی وجہ سے نماز کو ترک کر دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ کسی کے گھر جب ڈاکہ پڑے تو وہ لوگوں کو مدد کے لئے بلانے کی بجائے انہیں پتھر مارنا شروع کر دے۔اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہی کہ ڈا کو باہر سے اس پر حملہ آور ہوں گے اور ہمسائے اندر سے اس کو نقصان پہنچائیں گے۔پس جو شخص کسی سے لڑائی کی وجہ سے نماز باجماعت پڑھنا چھوڑتا ہے وہ یقینی طور اپنی تباہی کا موجب بنتا ہے۔ایک نادان کا لطیفہ مشہور ہے مگر میرے نزدیک نماز چھوڑنے والا اس سے بھی زیادہ نادان اور بیوقوف ہے۔کہتے ہیں کسی سے کوئی شخص برتن مانگ کر لے گیا تھا۔کچھ دن تک جواس نے واپس نہ دیا تو ایک دن وہ خود لینے گیا اور جا کر دیکھا کہ وہ اس کے برتن میں سالن ڈال کر کھا رہا ہے۔یہ دیکھ کر کہنے لگا کہ تو نے میرے برتن میں سالن ڈال کر کھایا ہے، میں تیرے 285