نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 284 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 284

کہتے نماز ہوتی ہی نہیں جب تک کہ باجماعت نہ ہو۔مگر ہمیں صحابہ کے قول پر ہی اکتفاء کرنے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم علال لا علم کے اقوال بھی ایسے ہی ملتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں۔جولوگ عشاء اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں آتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اور کو نماز پڑھانے کے لئے کھڑا کر دوں اور اپنے ساتھ اور آدمیوں کو لے کران کے سر پر ایندھن رکھ کر ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں اور آدمیوں سمیت ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دوں۔( بخاری و مسلم بحوالہ مشکوۃ کتاب الصلوة في الجماعة وفضلها )۔دیکھو رسول كريم عليم جیسا رحیم انسان جو کسی کی ادنیٰ سے ادنی تکلیف کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے رحمةً لِلعلمين (الانبیاء 108 ) وہ جب یہ کہتا ہے کہ جولوگ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتے ان کو مع اُن کے گھروں کے جلا دوں تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ باجماعت نماز پڑھنا کوئی معمولی بات ہے۔بلکہ فرضوں میں سے بہت بڑا فرض ہے جس کے ادا نہ کرنے کے متعلق رسول کریم مبلی نے اس قدر شدت سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔پس جو لوگ اس کو پورا نہیں کرتے انہیں سوچنا چاہئے کہ وہ رسول کریم ام کی کس قدر ناراضگی کا بار اپنے اوپر اٹھاتے ہیں۔انہیں خوب اچھی طرح سن لینا چاہیئے کہ کسی کی لڑائی اور کسی سے جھگڑا اس فرض کی ادائیگی میں ہر گز روک نہیں ہوسکتا۔اگر وہ زید وبکر کے لئے نماز پڑھتے ہیں تو ان سے لڑائی ہونے کی وجہ سے چھوڑ سکتے ہیں لیکن اگر خدا کے لئے پڑھتے ہیں تو پھر کون ہے جو کہہ سکتا ہے کہ چونکہ خدا سے میری لڑائی ہے اس لئے میں نماز نہیں پڑھتا۔اگر اس سے کسی کی لڑائی ہے تو وہ نہ پڑھے۔اور اگر نہیں تو زید و بکر کی لڑائی کی وجہ سے خدا کی نماز کو کیوں ترک کرتا ہے۔میرے نزدیک وہ شخص جونماز باجماعت پڑھنے میں سستی کرتا ہے کسی قسم کی روحانی ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔کیونکہ یہ نہایت ضروری رُکن اسلام ہے۔اور ایسا ضروری ہے کہ رسول کریم علیہ فرماتے ہیں کہ جو اس کو ادا نہیں کرتا میراجی چاہتا ہے کہ میں اس کو مع اس کے گھر کے جلا دوں۔بعض لوگوں نے صرف عشاء اور صبح کی نماز باجماعت نہ ادا کرنے والوں کے متعلق اسے سمجھا ہے۔لیکن اصل میں اس میں ساری نمازیں 284