نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 258 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 258

ہیں۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ جو مذہب منافقوں کو اپنے اندر شامل کرنے کے لئے تیار نہیں اور صرف دل کی تسلی کے بعد درست عقیدہ رکھنے والے کو اپنا جز و قرار دیتا ہے وہ زبردستی اور تلوار سے کسی شخص کو نہ اپنے اندر شامل کر سکتا ہے، نہ اسے جائز قراردے سکتا ہے۔يُخَادِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ يُخادِعُونَ کے مختلف لغوی معنوں کے پیش نظر يُخادِعُونَ اللہ کے معنے یہ ہوں گے که (1) وہ اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ دھوکا نہیں کھاتا۔(2) جو اُن کے دلوں میں بات ہے اس کے خلاف اظہار کر کے شک میں ڈالنا چاہتے ہیں ( 3 ) وہ خدا کے دین کے معاملہ میں فساد کرتے ہیں (4) وہ اللہ کو روکتے ہیں یعنی دین کی اشاعت میں روکیں ڈالتے ہیں۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان وہی کار آمد ہوتا ہے جو نیک نیتی اور اخلاص اور صداقت پر مبنی ہو۔جس ایمان میں اخلاص نہیں وہ کسی کام کا نہیں کیونکہ وہ تو دھوکا ہے اور خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے وہ دھوکا کب کھا سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ يُخادِعُونَ اللہ کے معنے اس جگہ یہ ہیں کہ (1) وہ خدا تعالیٰ سے ایسا معاملہ کرتے ہیں جو دھو کے کے مشابہ ہے (2) وہ خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ دھوکا میں نہیں آسکتا (3) وہ خدا تعالیٰ سے دھو کے کا معاملہ کرتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ اُن کے غیر مخلصانہ افعال کی سزا دے گا۔(4) وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ رہے ہیں۔(5) منافقوں کا معاملہ خدا تعالیٰ سے اخلاص کا نہیں ہے۔کبھی وہ مومنوں کے رعب میں آ کر اچھے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور کبھی کفار کے اثر کے نیچے دین کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔(6) ایک معنے خداع کے فساد کے بھی ہیں۔ان معنوں کے رو سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فساد کا معاملہ کرتے ہیں یعنی ان کے کاموں میں اخلاص نہیں ہے۔(7) ایک معنے اس 258