نُورِ ہدایت — Page 257
قوموں کا نام بیان کر کے مخالفین صداقت کا ذکر کرتا ہے۔پس اس جگہ ومن الناس کہہ کر ایک لطیف طنز سے انہیں نیکی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اور حیوان میں یہی فرق ہے کہ حیوان ایک مقرر راستہ پر چلتا جاتا ہے اور انسان سمجھ کر کام کرتا ہے۔سوانسانیت کے جامعہ کی تم کو اس قدر تو عزت ہونی چاہئے تھی کہ جس امر کو سچا سمجھتے تھے اس پر کار بند ہوتے۔اور اگر تمہاری قوم مسلمان ہو بھی گئی تھی لیکن تم خود اسلام کو برا سمجھتے تھے تو بھیڑوں کی طرح ان کے پیچھے نہ چلتے بلکہ جو تمہارا عقیدہ خلاف اسلام تھا اس پر قائم رہتے۔وَمَا هُمْ مُؤْمِنین کہہ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے اندر کوئی شائبہ بھی ایمان کا نہیں۔ما سے نفی کر کے پھر بعد میں باء کا استعمال عربی میں زور پیدا کرنے کے لئے ہوتا ہے اور اُردو میں اس کا صحیح ترجمہ ہر گز کی زیادتی سے ہوتا ہے۔یعنی اس جملہ کا یہ ترجمہ نہیں کہ وہ مومن نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر گز مومن نہیں۔اگر صرف عدم ایمان کا اظہار کرنا ہوتا تو اس مضمون کو دوسری ترکیب سے بیان کیا جاتا۔مندرجہ بالا آیات اور آیت زیر تفسیر میں ان لوگوں کے خیالات کی زبر دست تردید ہوتی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ اسلام نے لوگوں کو زبردستی مسلمان کرنے کا حکم دیا ہے۔اس غلطی میں بعض مسلمان بھی پھنسے ہوئے ہیں اور دشمنانِ اسلام نے تو اس غلط عقیدہ کو اسلام کی طرف منسوب کر کے اس پر اعتراض کرنا ایک مشغلہ بنا رکھا ہے حالانکہ اگر یہ دھوکا خوردہ مسلمان اور وہ دشمنانِ اسلام اسی آیت پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ اسلام جبر کے سراسر خلاف ہے کیونکہ جبر منافقت پیدا کرتا ہے اور جبر کسی کو مسلمان بنانے کے یہی معنے ہیں کہ گو تیرا دل اور دماغ اسلام پر تسلی نہیں پاتا لیکن تو ظاہر میں کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں۔اب ظاہر ہے کہ جو مذہب ایسی مذہبی تبدیلی کو جائز بلکہ پسند کرے گا وہ لازما منافق کو اپنی جماعت کا جزو سمجھے گا اور اُسے کبھی خارج نہیں کر سکتا۔لیکن قرآن کریم تو جیسا کہ اوپر کی آیات میں بتایا گیا ہے سختی سے ایسے لوگوں کو ملامت کرتا ہے اور ان کی نسبت اعلان کرتا ہے کہ وہ مومن نہیں 257