نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 249 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 249

اور مومن کی مراد اپنے رب کا قرب اور اس سے وصال ہوتا ہے۔بعض لوگ اس جگہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ کئی خدا تعالیٰ کے مقرب اس زندگی میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں اور بعض مارے جاتے ہیں تو پھر کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ لوگ ضرور کامیاب ہوتے ہیں؟ رض اس کا جواب یہ ہے کہ مفلح کے معنے اپنی مراد پالینے کے ہیں۔نہ کہ دنیوی ترقیات یا جسمانی راحت کے۔اس میں شک نہیں کہ بالعموم خدا تعالیٰ کے مقربوں کو دنیوی کامیابی بھی ہوتی ہے۔مگر وہ ایک ضمنی شے ہے۔مقصود نہیں ہے۔خدا رسیدہ لوگوں کی مراد تو خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی بھیجی ہوئی سچائی کی اشاعت ہے۔سو اس میں کبھی کوئی خدا رسیدہ ناکام نہیں ہوا۔مسیح علیہ السلام کو یہود ا نے پھانسی پر تو لٹکا دیا مگر کیا وہ مسیح کے مشن کو نا کام کر سکے؟ اپنے مقصد میں تو مسیح علیہ السلام ہی کامیاب ہوئے۔حضرت امام حسین یزید کے مقابلہ پر شہید ہوئے مگر کیا یزید کا نام بھی اب کوئی لیتا ہے۔جس مقصد کے لئے امام حسین کھڑے ہوئے آخر وہی کامیاب ہوا اور دنیا نے اسلامی نظام کی اسی تشریح کو قبول کیا جس کے لئے حضرت امام حسین کھڑے ہوئے تھے۔یزید کے مقصد کی تو آج ایک مسلمان بھی تائید نہیں کرتا۔مُفلح کے لفظ سے مراد کو پالینے کا وعدہ ہے، نہ یہ کہ وہ اپنے دشمن کے ہاتھوں ہلاک نہیں ہو سکتے۔إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرُتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ کفار میں سے آئندہ کوئی ایمان نہ لائے گا کیونکہ واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ اس آیت کے بعد کثرت سے کفار ایمان لائے۔بلکہ اس آیت کے بعد سورۃ نصر نازل ہوئی جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسُ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ الله افواجا۔یعنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت اور فتح آئے گی اور تو دیکھے گا کہ لوگ دین الہی میں فوج در فوج داخل ہوں گے۔پس جبکہ سورۃ بقرہ کی اس 249