نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 234 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 234

ایمان رکھتے ہیں اور تاجرانہ ذہنیت کو ترک کر کے ایسی قربانیاں کرتے ہیں کہ جو آخر میں اُن کی قوم کو اور باقی دنیا کو اُبھار دیتی ہیں۔مثلاً دنیا میں امن کے قیام کے لئے جہاد کا کرنا ایمان بالغیب کا ہی نتیجہ ہے۔ورنہ کون جانتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور لڑائی کے اچھے نتیجہ کو دیکھے گا۔سپاہی جب کسی اچھے مقصد کے لئے میدان جنگ میں جاتا ہے تو وہ ایمان بالغیب کا ایک مظاہرہ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو گیا تو یہ بھی اچھا ہے۔لیکن اگر وہ اس کے لئے جدو جہد کرتے ہوئے مر گیا تب بھی اس کا نتیجہ حق اور صداقت کے لئے اچھا نکلے گا۔حق یہ ہے کہ جس قدر شاندار کام ہیں وہ سب ایمان بالغیب کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔تعلیم، صدقہ خیرات، غرباء کے اُبھارنے کے لئے کوششیں، ملکی تنظیم، سب ایمان بالغیب ہی کی اقسام ہیں۔اگر انسان آئندہ نکلنے والے اچھے نتائج پر جو ظاہر نگاہ سے پوشیدہ ہوتے ہیں یقین نہ رکھے تو کبھی ایسی قربانیاں نہ کر سکے۔پس متقی کی علامت ایمان بالغیب بتا کر قرآن کریم نے یہ بتایا ہے کہ مومن ضروری دینی امور پر ایمان رکھنے کے علاوہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قربانیاں کرتا ہے اور تاجرانہ ذہنیت سے بالا ہو جاتا ہے اور اس امر پر اصرار نہیں کرتا کہ میں وہی کام کروں گا جن کا نقد بہ نقد نتیجہ نکلے۔بلکہ جب اُسے یقین ہو جائے کہ جو کام اس کے سامنے پیش کیا گیا ہے اچھا اور نیک ہے تو وہ ظاہری حالات سے بے پروا ہو کر اس یقین سے اس کام کے کرنے میں لگ جاتا ہے کہ خواہ حالات کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں نیک کام کا نتیجہ نیک ہی نکلے گا اور اس امر کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ اس نتیجہ کو خود بھی دیکھے گا یا نہیں۔اگر کوئی شخص تعصب سے آزاد ہو کر غور کرے تو ایمان بالغیب کا یہ مفہوم ایسا اہم ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم نے تمام قومی، ملی اور بنی نوع انسان کی ترقی کے لئے قربانیوں کی بنیا درکھ دی ہے۔ایک معنے غیب کے غائب ہونے کی حالت کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے ایمان بالغیب کے یہ معنے بھی ہیں کہ جب انسان غیب کی حالت میں ہو یعنی لوگوں کی 234