نُورِ ہدایت — Page 233
کے اسرار کو مانتے ہیں تو کیوں پہلی کتابوں کے اسرار کو جیسے کہ تثلیث یا کفارہ ہیں، نہیں مانتے۔مگر جیسا کہ ظاہر ہے یہ اعتراض يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے معنوں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔قرآن کریم کسی ایسے امر کو ماننے کی تلقین نہیں کرتا جو بے دلیل ہو بلکہ وہ تو ان دوسرے مذاہب پر جو بے دلیل باتیں مانتے ہیں اعتراض کرتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے متبعین کی نسبت گواہی دیتا ہے کہ وہ ہر امر کو دلیل اور برہان سے مانتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کفارہ اور تثلیث کا اس لئے انکار نہیں کرتے کہ وہ اسرار میں سے ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ مسائل بے دلیل بلکہ خلاف عقل ہیں۔اگر ان کی کوئی دلیل ہوتی تو ان کے ماننے سے مسلمانوں کو ہر گز انکار نہیں ہوسکتا تھا۔خلاصہ یہ کہ ایمان بالغیب سے مراد ( 1 ) ان سب صداقتوں پر ایمان لانا ہے جو حواس خمسہ سے معلوم نہیں کی جاسکتیں بلکہ ان کا ثبوت اور ذرائع سے معلوم ہوتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے مومن سنتے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے علوم غیبیہ میں جنہیں مومن پورا ہوتے دیکھتے ہیں اور اس کی زبر دست قدرتیں ہیں جن کا ظہور مومن اپنے نفوس اور باقی دنیا میں دیکھتے ہیں۔مگر باوجود ان باتوں کے خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء ہے وہ حواس خمسہ سے محسوس نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح ملائکہ کا وجود ہے۔ملائکہ ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔منہ دوسرے حواس ظاہری سے معلوم کئے جا سکتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے اُن کا وجود وہمی نہیں ہے بلکہ ان کے وجود پر قطعی دلائل ہیں جو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بیان کئے گئے ہیں۔یا مثلاً ایک غیب موت کے بعد کی زندگی ہے قرآن کریم اس پر بے دلیل ایمان لانے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کے سچے ہونے پر زبردست دلائل دیتا ہے جو آئندہ مختلف مواقع پر بیان کئے جائیں گے۔(2) يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے یہ معنے بھی ہیں کہ متقی صرف ایسے کام نہیں کرتے کہ جن کے نتائج نقد به نقد مل جاتے ہیں۔جیسے کہ تاجر سودا فروخت کرتا ہے اور اس کی قیمت وصول کر لیتا ہے۔بلکہ ان کی زندگی اخلاقی زندگی ہوتی ہے اور وہ اخلاق کی قوت اور ان کے نیک نتائج پر 233