نُورِ ہدایت — Page 196
فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہوسکتالیکن مواد کے ظہور اور بروز کے وقت ہر یک طور کی تدبیر ہوسکتی ہے۔انبیاء نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا تا خلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہو جائے اور خواب غفلت سے اس ٹھو کر کے ساتھ بیدار ہو جائیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگاہیں دوڑانا شروع کر دیں اور اس راہ میں حرکت کریں گو وہ مخالفانہ حرکت ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوں کے ساتھ ایک تعلق پیدا کرلیں گو وہ عدوانہ تعلق ہی کیوں نہ ہو۔اسی کی طرف اللہ جل شانه اشارہ فرماتا ہے فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا یقینا سمجھنا چاہئے کہ دین اسلام کو سچے دل سے ایک دن وہی لوگ قبول کریں گے جو بباعث سخت اور پرزور جگانے والی تحریکوں کے کتب دینیہ کی ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اٹھا ر ہے ہیں گو وہ قدم مخالفانہ ہی سہی۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 118) جب کوئی ابتلا اور آزمائش آتی ہے تو وہ انسان کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہے۔اُس وقت وہ مرض جو دل میں ہوتی ہے اپنا پورا اثر کر کے انسان کو بلاک کر دیتی ہے۔فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا۔یہ مرض ابتلا ہی کے وقت بڑھتی اور اپنا پورا زور دکھاتی ہے۔خدا تعالی کی یہ بھی عادت ہے کہ وہ دلوں کی مخفی قوتوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔جو شخص اپنے دل میں ایک نور رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا صدق اور اخلاص ظاہر کر دیتا ہے اور جو دل میں محبت اور شرارت رکھتا ہے اس کو بھی کھول کر دکھا دیتا ہے اور کوئی بات چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی۔احکم جلد 10 نمبر 1۔10 جنوری 1906 صفحہ 5) نرا بدیوں سے بچنا کوئی کمال نہیں۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ اسی پر بس نہ کرے۔نہیں بلکہ انہیں دونو کمال حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے جس کے لئے مجاہدہ اور دُعا سے کام 196