نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 195 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 195

اور قرآن شریف میں جو خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبهم آیا ہے اس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنی ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور منہ پر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ (الصف (6) یعنی جب کہ وہ حق سے پھر گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کے دل کو حق کی مناسبت سے دور ڈال دیا اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کا یا پلٹ ان میں ظہور میں آئی اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفتہ رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے ان کے انوار فطرت کو دبا لیا۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 48،47) * آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہے خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِم کہ خدا نے دلوں پر مہر کر دی ہے تو اس میں انسان کا کیا قصور ہے؟ یہ ان لوگوں کی کو نہ اندیشی ہے کہ ایک کلام کے ماقبل اور مابعد پر نظر نہیں ڈالتے ورنہ قرآن شریف نے صاف طور پر بتلایا ہے کہ یہ مہر جو خدا کی طرف سے لگتی ہے یہ دراصل انسانی افعال کا نتیجہ ہے۔کیونکہ جب ایک فعل انسان کی طرف سے صادر ہوتا ہے تو سنت اللہ یہی ہے کہ ایک فعل خدا کی طرف سے بھی صادر ہو۔جیسے ایک شخص جب اپنے مکان کے دروازے بند کر دے تو یہ اس کا فعل ہے اور اس پر خدا کا فعل یہ صادر ہو گا کہ اس مکان میں اندھیرا کر دے کیونکہ روشنی اندر آنے کے جو ذریعے تھے وہ اُس نے خود اپنے لئے بند کر دئیے۔اسی طرح اس مہر کے اسباب کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں دوسری جگہ کیا ہے جہاں لکھا ہے: فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللهُ (الصف 6) کہ جب انہوں نے کجی اختیار کی تو خدا نے ان کو بج کر دیا۔اسی کا نام مہر ہے لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں کہ پھر اس مہر کو دور نہ کر سکے۔چنانچہ اُس نے مہر لگنے کے اسباب بیان کئے ہیں تو ساتھ ہی وہ اسباب بھی بتلا دیئے ہیں جن سے یہ مہر اٹھ جاتی ہے۔جیسے کہ یہ فرمایا ہے إِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا (بنی اسرائیل (26)۔( البدر، جلد 2 نمبر 34 مورخہ 11 ستمبر 1903 ، صفحہ 367) 195