نُورِ ہدایت — Page 192
یقین کا لفظ عام طور پر جب استعمال ہو تو اس سے مراد اس کا ادنی درجہ ہوتا ہے۔یعنی علم کے تین مدارج میں سے ادنی درجہ کا علم یعنی علم الیقین اس درجہ پر اتقا والا ہوتا ہے۔مگر بعد اس کے عین الیقین اور حق الیقین کا مرتبہ بھی تقویٰ کے مراحل طے کرنے کے بعد حاصل کر لیتا ہے۔تقویٰ کوئی چھوٹی چیز نہیں۔اس کے ذریعہ ان تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت وقوت پر غلبہ پائی ہوئی ہیں۔یہ تمام قوتیں نفس اٹارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں۔اگر اصلاح نہ پائیں گے تو انسان کو غلام کرلیں گے۔علم و عقل ہی بُرے طور پر استعمال ہو کر شیطان ہو جاتے ہیں۔متقی کا کام ان کی اور ایسا ہی اور گل قومی کی تعدیل کرنا ہے۔ایسا ہی جو لوگ انتقام، غضب یا نکاح کو ہر حال میں بُرا جانتے ہیں۔وہ بھی صحیفہ قدرت کے مخالف ہیں اور قومی انسانی کا مقابلہ کرتے ہیں۔سچا مذہب وہی ہے جو انسانی قویٰ کا مرتی ہو، نہ کہ اُن کا استیصال کرے۔رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرت انسانی میں رکھے گئے ہیں اُن کو چھوڑنا خدا کا مقابلہ کرنا ہے۔جیسے تارک الدنیا ہونا یا راہب بن جانا یہ تمام حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں۔اگر یہ امر ایسا ہی ہوتا تو گویا اُس خدا پر اعتراض ہے جس نے یہ قومی ہم میں پیدا کئے۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 48،47) طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخر الز مان پر جو کچھ اتارا گیا ہے اس پر ایمان لاوے اور اس پیغمبر سے پہلے جو کتابیں اور صحیفے سابقہ انبیاء اور رسولوں پر نازل ہوئے اُن کو بھی مانے۔وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزاوسز امانتا ہو۔( الحکم جلد 8 نمبر 35 - 34 صفحہ 9_10 تا 17 اکتوبر 1904ء) میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلی وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے۔ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔اسی امر پر توجہ کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء کے یکا یک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی 192