نُورِ ہدایت — Page 173
ہے۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ فرشتوں کا نزول ہوا اور مخاطبہ نہ ہو۔نہیں بلکہ وہ انہیں بشارتیں دیتے ہیں۔یہی تو اسلام کی خوبی اور کمال ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہے۔استقامت بہت مشکل چیز ہے یعنی خواہ ان پر زلزلے آئیں فتنے آئیں وہ ہر قسم کی مصیبت اور دکھ میں ڈالے جاویں مگر ان کی استقامت میں فرق نہیں آتا۔ان کا اخلاص اور وفاداری پہلے سے زیادہ ہوتی ہے ایسے لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان پر خدا کے فرشتے اُتریں اور انہیں بشارت دیں کہ تم کوئی غم نہ کرو۔یہ یقیناً یا د رکھو کہ وحی اور الہام کے سلسلہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ وعدے کئے ہیں اور یہ اسلام ہی سے مخصوص ہے۔ورنہ عیسائیوں کے ہاں بھی مہر لگ چکی ہے وہ اب کوئی شخص ایسا نہیں بتا سکتے جواللہ تعالیٰ کے مخاطبہ مکالمہ سے مشرف ہو۔اور ویدوں پر تو پہلے ہی سے مہر لگی ہوئی ہے ان کا تو مذہب ہی یہی ہے کہ ویدوں کے الہام کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے یہ سلسلہ بند ہو گیا گویا خدا پہلے کبھی بولا تھا مگر اب وہ گونگا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اس وقت کلام نہیں کرتا اور کوئی اس کے اس فیض سے بہرہ ور نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ پہلے بولتا تھا اور یا اب وہ سنتا اور دیکھتا بھی ہے؟ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں مسلمانوں کے منہ سے اس قسم کے الفاظ نکلتے سنتا ہوں کہ اب مخاطبہ مکالمہ کی نعمت کسی کو نہیں مل سکتی۔یہ کیوں عیسائیوں یا آریوں کی طرح مہر لگاتے ہیں۔اگر اسلام میں یہ کمال اور خوبی نہ ہو تو پھر دوسرے مذاہب پر اسے کیا فخر اور امتیاز حاصل ہوگا۔۔۔۔ی سچی بات یہ ہے کہ اسلام کی روح اور اصل حقیقت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف وہ انسان کو عطا کرتا ہے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ آسمان سے انعام و اکرام ملتے ہیں۔جب انسان اس مرتبہ اور مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی نسبت کہا جاتا ہے أوليك على هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو کامل ترقی پاکر اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے نجات پائی ہے۔173