نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 146 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 146

جہتوں سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت انگیز حسین نظارے دکھائی دیتے ہیں جو لا متناہی ہیں۔ان کی کوئی حدوبست نہیں۔آج امت کو چودہ سو سال ہو چکے ہیں جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی بلکہ چودہ سو سال سے بھی کچھ زائد سال گذر چکے ہیں۔اس عرصہ میں بے شمار علماء ربانی نے اس پر قلم اٹھایا۔وہ اس کے نظاروں سے خود بھی محفوظ ہوئے اور دنیا کو بھی ان نظاروں میں شریک کیا۔لیکن یہ خزانہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ نظارے لامتناہی ہیں۔اس سورۃ کے آخر پر ایک دعا سکھائی گئی ہے۔اھدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِّينَ۔کہ اے خدا ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت دے وہ راستہ جس پر انعام پانے والے چلے تھے یا جس پر چل کر انعام ملتے ہیں۔ایسا راستہ نہ ہو جس راستہ پر غضب نازل ہوتا ہے یا کج فطرت لوگ دکھائی دیتے ہیں۔گمراہ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ایسا راستہ ہم نہیں مانگتے۔میں نے سوچا کہ ہم جب سیدھا راستہ مانگتے ہیں تو سیدھے راستہ پر تو انعام والے ہی ملنے چاہئیں۔یہ مغضوب کا ذکر بیچ میں کہاں سے آگیا؟ اور ضالین سے بچنے کی دعا کیوں سکھائی گئی ؟ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس مضمون کی طرف پھیری کہ صراط مستقیم در اصل وہ راستہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہر مخلوق کو بالآخر اس تک پہنچائے گا۔اور اس کی دو شکلیں ظاہر ہوتی ہیں۔ایک صراط مستقیم ہے جو منعم علیہ گروہ کا راستہ ہے اور دوسری وہ راہ ہے جس پر خدا کے وہ بندے چلتے ہیں جو مغضوب ہو جاتے ہیں یا گمراہ ہو جاتے ہیں اور ضالین کے زمرہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔چنانچہ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے میری نگاہ صراط مستقیم کی شکل میں پہلی آیات کی طرف مبذول فرما دی۔در اصل الحمدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ میں جس راستہ کا ذکر فرمایا گیا ہے، یہ حد کا رستہ ہے جو ملِكِ يَوْمِ الدِّین پر ختم ہوتا ہے۔وہی صراط مستقیم ہے اور 146