نُورِ ہدایت — Page 119
آتا ہے۔پس لام کے ذریعہ سے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد حقیقی ہوتی ہے اور غیر اللہ کی طفیلی۔کیونکہ انسان میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ذاتی نہیں ہوتیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عطا شدہ ہوتی ہیں۔پس جو تعریف کسی انسان کی کی جاتی ہے اس کا بھی اصل مستحق اللہ تعالی ہی ہوتا ہے۔اس آیت کے بعض مطالب ذیل میں لکھے جاتے ہیں: (1) اس جہان کا خالق سب نقصوں سے پاک اور سب خوبیوں کا جامع ہے۔(2) وہ تمام مخلوق کی گنہ اور حقیقت سے واقف ہے اور اس کے سوا کوئی شخص بھی کسی چیز کی کامل ماہیت سے واقف نہیں۔اس دعویٰ کا روشن ثبوت سائنس کی ترقی سے مل چکا ہے۔مختلف اشیاء کی تحقیق میں سینکڑوں علماء لگے ہوئے ہیں لیکن اب تک ادنیٰ سے ادنی شے کی کامل حقیقت سے بھی کوئی آگاہ نہیں ہوسکا۔اور ہر چیز کے متعلق تازہ انکشافات ہوتے چلے جارہے ہیں۔(3) خدا تعالی کامل حمد کا مالک تب ہی ہو سکتا ہے کہ وہ رَبُّ الْعَالَمِین ہو۔اگر رَبُّ العالمین نہ ہو تو وہ کامل حمد کا مالک نہیں ہو سکتا۔اس لئے ضروری ہے کہ جس طرح اس کا جسمانی نظام سب کے فائدہ میں لگا ہوا ہے۔اس کا روحانی نظام بھی سب پر حاوی ہو۔اور کوئی ملک اور کوئی قوم روحانی ترقی کے سامانوں سے محروم نہ ہو۔پس اگر کوئی الہام کسی خاص قوم سے مختص ہے۔تو دوسری قوم کے لئے الگ الہام نازل ہونا چاہئے۔اور جب دوسری قوموں کے لئے الگ الہام نازل نہ ہو۔تو ایسے وقت میں جو الہام نازل ہو وہ سب دنیا کی ہدایت کے لئے ہونا چاہئے (پس جو مذاہب اس امر کے قائل ہیں کہ الہام صرف انہی کی قوم کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔یا یہ کہ نجات صرف انہی کی قوم یا مذہب کا حق ہے غلطی پر ہیں) (4) انسانوں کے اندر جس قدر کمالات ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں۔اس لئے جو نیکی بھی وہ کریں اس کی تعریف کا حقیقی مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔(5) حمد کو ربوبیت عالمین کے ساتھ وابستہ کر کے یہ بتایا ہے کہ حقیقی خوشی انسان کو اسی 119