نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 118 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 118

کر سکتے اور بعض دفعہ ایسی تعریف کرتے ہیں۔جو موصوف میں پائی نہیں جاتی۔پس اصل حمد وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو بلکہ دوسرے لوگ تو الگ رہے انسان خود اپنی نسبت رائے قائم کرنے میں غلطی کر جاتا ہے اور اپنی طاقتوں کا غلط اندازہ لگا لیتا ہے۔مگر جو بات خدا تعالیٰ بندہ کے متعلق فرماتا ہے نہ اس میں کوئی کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔اگر الحمد کی بجائے احمد یا محمد کے الفاظ ہوتے تو یہ معنی پیدا نہ ہو سکتے تھے۔نیز اگر حمد کا صیغہ فعل استعمال کیا جاتا یعنی یہ کہا جاتا کہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں تو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شائد انسان اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے لیکن یہ درست نہیں۔انسان کی حمد محدود ہوتی ہے اور وہ صرف اپنے علم کے مطابق حمد کرتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ میں اس کے سوا غیر محدود اسباب حمد کے اور بھی پائے جاتے ہیں۔غرض احمد یا محمد سے جو معنے پیدا ہو سکتے تھے وہ بھی الحمد میں پائے جاتے ہیں اور ان سے زائد بھی۔اس لئے الحمد لله کے الفاظ کا اس مختصر سورۃ میں رکھنا جو سب مطالب کی جامع ہے ضروری تھا۔بیشک قرآن کریم میں حمد مخلوق کی طرف بھی منسوب ہوئی ہے جیسا کہ فرمایا وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ (بقره (31) لیکن کہیں بھی احمد یا محمد کے الفاظ مخلوق کی طرف منسوب نہیں ہوئے۔گو نُسَبِّحُ اور نُقَدِّسُ کے الفاظ یا یسبح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس میں اس امر کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ خالص حمد کا مکمل طور پر سمجھنا بندہ کی شان سے بالا ہے۔حدیثوں میں یہ الفاظ آتے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں الفاظ کے اور معنے ہوتے ہیں اور بندہ کے کلام میں اور۔بندہ جب اپنی طرف سے ایک لفظ بولتا ہے تو اس کے معنے اتنے وسیع نہیں لئے جاتے جتنے وسیع کہ اس وقت لئے جاتے ہیں جب خدا تعالیٰ کے کلام اور پھر کلام شریعت میں وہ الفاظ آئیں۔لله کے الفاظ سے اس شبہ کو بھی ڈور کیا ہے کہ حمد تو انسانوں کی بھی کی جاتی ہے۔پھر سب تعریف خدا تعالیٰ کی کس طرح ہوئی ؟ اور وہ اس طرح کہ لام ملکیت ظاہر کرنے کے لئے 118