نُورِ ہدایت — Page 1195
اعُوذُ بِرَبّ الناس۔اور جب آپ نے صبح کی نماز کے لئے پڑاؤ کیا تو آپ نے انہی کی قراءت کی۔یہی تلاوت کی۔پھر جب آپ نے نماز ادا کر لی تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے عقبہ! تو کیسے دیکھتا ہے؟ ( شاید اس لحاظ سے بھی انہوں نے کہا ہو کہ بڑی چھوٹی سورتیں آپ نے پڑھی ہیں۔فرمایا ان میں تو سب کچھ ہے۔) ( سنن ابوداؤد - ابواب الوتر۔باب فی المعوذتین۔حدیث 1462) ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی نظر سے اور انسانوں کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔جب معوذتین نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار کر لیا اور باقی سب ترک کر دیا“۔( سنن ابن ماجہ کتاب الطب باب من استرقى من العین حدیث 3511) اس معاملے میں جو بھی دعائیں پہلے تھیں ان کو ختم کردیا اور پھر یہی پڑھا کرتے تھے۔حضرت ابنِ عابس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابن عابس ! کیا میں پناہ لینے کے بارہ میں تجھے تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں؟۔بہترین پناہ کس طرح کی ہے جن سے پناہ مانگنے والا پناہ مانگا کرتے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا وہ سورتیں ہیں سورۃ فلق اور سورۃ ناس۔( مسند احمد بن حنبل۔جلد 5 صفحہ 322- مسند المگیین۔حدیث ابن عابس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 15527) پھر آخری دوسورتوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔چونکہ سواری کے جانور کم تھے اس لئے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے اترنے کی باری تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے میرے قریب آئے اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ پڑھو۔میں نے یہ کلمہ پڑھ لیا۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورۃ مکمل پڑھی اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 1195