نُورِ ہدایت — Page 1190
ان سورتوں میں سے جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں کوئی سورۃ شروع کرتا تو پہلے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ یعنی سورۃ اخلاص پڑھتا۔جب اسے پڑھ لیتا تو پھر اس کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھتا اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتا۔اس کے ساتھیوں نے اس بارے میں اس سے بات کی اور کہا کہ تم سورۃ اخلاص سے شروع کرتے ہو اور پھر نہیں سمجھتے یہ سورۃ تمہیں کافی ہوگئی بلکہ ایک اور سورت بھی اس کے ساتھ پڑھتے ہو۔یا تو تم اسی کو پڑھا کرو یا اس کو چھوڑ دو اور کوئی دوسری سورت پڑھو۔اس نے کہا کہ میں تو اسے ہر گز نہیں چھوڑوں گا۔اگر تم پسند کرتے ہو کہ میں اسی طرح تمہاری امامت کراؤں تو میں تمہارا امام رہوں گا۔اور اگر تمہیں یہ پسند نہیں ہے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا یعنی کہ امامت چھوڑ دوں گا۔سورت کو نہیں چھوڑوں گا۔وہ لوگ اس کو اپنے میں سب سے زیادہ بہتر سمجھتے تھے۔انہوں نے پسند نہ کیا کہ اس کے سوا کوئی اور ان کا امام ہو۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۔آپ نے فرمایا اے فلاں جو بات تمہارے ساتھی تم سے کہتے ہیں تمہیں اس فعل سے کون سی بات روکتی ہے۔( یعنی کہ سورۃ اخلاص نہ پڑھو یا وہی پڑھو اور دوسری سورتیں نہ پڑھو۔تو اکٹھی پڑھنے کی کیا وجہ ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ تم نے یہ سورۃ ہر رکعت میں لازم کرلی ہے؟ اس نے کہا یہ سورت مجھے بہت پیاری ہے۔آپ نے فرمایا اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔(صحیح البخاری۔کتاب الاذان باب الجمع بين السورتين في الركعة ) پھر حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ جب مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اپنے رب کا شجرہ نسب ہمیں بتائیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ نازل فرمائی۔پس صمد وہ ہے جو نہ کسی کا باپ ہے۔نہ اس کا کوئی باپ ہے۔کیونکہ کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو پیدا ہوئی مگر اس نے ضرور مرنا ہے۔اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس نے مرنا ہے مگر اس کا ضرور کوئی نہ کوئی وارث ہوگا۔جبکہ اللہ عز وجل نہ تو وفات پائے گا۔نہ 1190