نُورِ ہدایت — Page 1189
جب بھی عمل کی کوششیں کرے گا تو گویا حقیقی توحید کو سمجھنے والا اور اس پر قائم ہونے والا ہو گیا اور پھر قرآن کریم کی تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق بھی ملے گی۔تو انسان کو صرف اتنا ہی نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ میں نے سورۃ اخلاص پڑھ لی تو تین حصہ قرآن کریم پڑھ لیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اس کو پڑھو اور پھر تو حید پر قائم ہوا اور اس پر عمل کرو۔اسی طرح بعض روایات میں بعض اور آیات بھی ہیں جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک حصہ ہے۔یہ ایک چوتھائی حصہ ہے۔تو اگر اسی کو لیا جائے تو گویا ان چند آیتوں کو پڑھ کر لوگ کہیں گے کہ قرآن کریم مکمل ہو گیا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ ہے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جن پر تم لوگ عمل کرو اور پھر قرآن کریم پر غور کرو، توحید کے قیام کی کوشش کرو تو تبھی تم قرآن کریم کو پڑھنے والے ہو گے۔اور قرآن کریم کیا ہے؟ قرآن کریم کی تعلیم توحید کے قیام کے لئے ہی ہے جس کے لئے ہر انسان کو کوشش بھی کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک روایت ہے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک سریہ کا امیر بنا کر بھیجا۔جنگ کے لئے روانہ کیا۔جو اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تھا اور قراءت کا اختتام قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ پر کیا کرتا تھا۔جب صحابہ واپس آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس سے پوچھو کہ وہ کیوں ایسا کرتا ہے؟ صحابہ نے جب اس سے پوچھا تو اس نے کہا اس لئے کہ یہ رحمان خدا کی صفت ہے۔اس وجہ سے میں اس کو پڑھنا پسند کرتا ہوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اسے خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔( صحیح مسلم - کتاب صلوة المسافرین وقصرها ـ باب فضل قراءة قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ) پھر اسی بارے میں بخاری میں حضرت انس کے حوالے سے ایک حدیث ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی مسجد قبا میں ان کی امامت کرایا کرتا تھا۔وہ جب 1189