نُورِ ہدایت — Page 1171
تیرے ہی حضور عرض کرتے ہیں کہ تو ہمیں فسادوں اور فتنوں سے بچا۔شریروں اور باغیوں کے وساوس سے نجات دے اور بلند سے بلند درجے حاصل کرنے کی توفیق بخش۔جس طرح بلندی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی بڑھتی جاتی ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے اپنی صفات بھی علی الترتیب اعلی بیان فرما دی ہیں تا کہ جہاں مشکلات بڑھتی جائیں وہاں خدا تعالیٰ کو اس کی اعلیٰ صفات کے مطابق اپنی مدد اور تائید کے لئے پکارتے جاؤ۔اس زمانہ میں اس سورۃ کے پڑھنے کی بڑی ضرورت ہے۔لوگوں کو آجکل دین سے بڑی نفرت ہوگئی ہے۔بعض جگہ بہت چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتوں سے ابتلا آجاتے ہیں۔مثلاً کسی کا جنازہ نہیں پڑھا۔یا کسی نے رشتہ نہیں دیا۔یا فلاں کیوں سیکرٹری بنایا گیا۔اور فلاں پریذیڈنٹ کیوں بنایا گیا۔مجھے حیرت ہی آتی ہے کہ اس زمانہ میں ایمان کی قیمت کیوں اس قدر تھوڑی ہو گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اس زمانہ سے اس سورۃ کا بہت تعلق ہے۔چنانچہ تجربہ بتا تا ہے کہ واقعہ میں ہمارے دوستوں کو اس کی بہت ضرورت ہے تاوہ شریر لوگ جو اُن کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ان سے محفوظ رہیں۔خناس و ہی ہستیاں ہوتی ہیں جو نظر نہیں آتیں یعنی پوشیدہ رہتی ہیں۔کبھی کسی لباس میں اور کبھی کسی لباس میں آکر وسو سے ڈالتی رہتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ یہ میری خیر خواہ اور ہمدرد ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کا فراٹھے گا اور اسے پتہ بھی نہیں ہو گا کہ کس طرح اس کا ایمان چلا گیا۔وہ یہی زمانہ ہے۔اس میں لالچ، حسد، بغض، ناجائز رعب، خوف اتنا ترقی کر گیا ہے کہ ایمان کی کچھ بھی قیمت نہیں رہی اور وہ اس طرح بیچ دیا جاتا ہے کہ گویا بہت ہی حقیر چیز ہے جس قدر جلدی اپنے پاس سے دور ہو اتنا ہی اچھا ہے۔اپنے گندوں اور میلوں کو لوگ اتنا جلدی نہیں پھینکتے جتنا ایمان کو پھینکتے ہیں۔اگر ان کو کہا جائے کہ رسم ورواج کے گندوں کو چھوڑ دو تولڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں کہ اس طرح ہماری ناک کٹ جاتی ہے مگر ایمان کو ترک کرنے کے لئے 1171