نُورِ ہدایت — Page 1166
سے کم ترقی یافتہ ملکوں میں بھی لامذہبیت کی رو پھیل جاتی ہے۔سورۃ الناس میں سارا نقشہ مغربی اقوام کا کھینچا گیا ہے اور یہی وہ حاسد قوم ہے جس کو مسلمانوں کی طاقت دیکھنا گوارا نہیں۔اور وہ چاہتی ہے کہ اسلام کا نام دنیا سے مٹ جائے۔پس اس قوم کے پیدا کردہ فتنوں سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو دعا سکھائی گئی ہے اور دعا کے پہلے الفاظ یہ ہیں کہ میں رب الناس کی پناہ چاہتا ہوں۔صفت ربوبیت کے ماتحت تمام وہ چیزیں آتی ہیں جو انسانی ضروریات کہلاتی ہیں اور جن کو ملک کی اقتصادیات کے نام سے پکارا جاتا ہے۔گویا قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس میں یہ اشارہ ہے کہ جب مسلمانوں کا حسد نکلے گا تو سب سے پہلے ان کی اقتصادیات کو تباہ کرے گا اور تجارت کو نقصان پہنچائے گا۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کے الفاظ سکھائے اور بتایا کہ اگر اُن کے شر سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ تعالی کی پناہ میں آنا۔رب الناس کے بعد مَلِكِ النّاس کے الفاظ سکھائے۔گویا اس میں یہ اشارہ کیا کہ مغربی اقوام کے اقتصادی فتنہ کے بعد ملوکیت کا فتنہ شروع ہوگا۔۔۔۔ملِكِ النّاس کے بعد الہ الناس کے الفاظ رکھے گئے ہیں۔اور اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ جب مغربی اقوام مختلف ممالک میں بادشاہتیں قائم کرلیں گی تو ان کی طرف سے ایک اور فتنہ برپا ہوگا۔یعنی مذہبی پروپیگنڈ ا شروع کر دیں گی اور اس طرح مسلمانوں کا ایمان متزلزل کردیں گی اور نیا فلسفہ اور نئی تعلیم پیش کر کے مذہب کو برباد کرنے کی کوشش کریں گی۔کا لجوں وغیرہ میں تعلیم کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کو کھوکھلا کر دیں گی۔اور اس قسم کا لٹریچر شائع کریں گی جس سے مذہب اسلام ایک غیر معقول مذہب نظر آئے اور لوگ اس سے متنفر ہوں۔پس فرمایا۔اے مسلمانو! جب تمہیں ان حالات سے دو چار ہونا پڑے۔تو تم اس خدا کی پناہ چا ہو۔جو رب، مالك اور الہ ہے۔یعنی یہ دعا کرو کہ اے خدا صحیح ربوبیت، صحیح ملوکیت اور صحیح 1166