نُورِ ہدایت — Page 1121
ہیں۔پس دریا ایک مفید چیز ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے۔لیکن جب اس کا مضر پہلو ظاہر ہوتا ہے تو وہ زندگی بخش ہونے کی بجائے زندگی ختم کرنے کا ذریعہ ہو جاتا ہے۔درحقیقت ہر چیز کا یہی حال ہے۔اس کا فائدہ بھی ہے نقصان بھی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کو دعا کرتے رہنا چاہئے کہ جو کچھ جسمانی اور روحانی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ ان کے لئے فائدہ بخش ہو اور اس کے مضرات سے اللہ تعالیٰ خود ہی بچاتا رہے۔وَمِن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ لفظ غایت اور وقت کے مختلف لغوی معانی پیش نظر رکھتے ہوۓ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وقت کے معنے ہوں گے (1) میں پناہ چاہتا ہوں رات کی تاریکی کے شہر سے جب کہ اندھیرا چھا جائے۔(2) میں پناہ چاہتا ہوں اس وقت کے شر سے جب سورج غروب ہو جائے۔(3) میں پناہ چاہتا ہوں اس وقت کے شر سے جب چاند اور سورج کو گرہن لگے۔(4) میں پناہ چاہتا ہوں اس وقت کے شر سے جب کہ فراخی کے بعد تنگی ہو جائے۔(5) میں ان حوادث سے پناہ چاہتا ہوں جو رات کے وقت آئیں۔(6) میں اُس وقت کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جب کہ انسان گڑھے میں دخل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ یعنی میں فاسق کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب کہ وہ وَ قُوب اختیار کر لیتا ہے۔۔۔غاسق کے معنے رات کے ہیں اور وقت کے معنے اندھیرے اور ظلمت کے چھا جانے کے ہیں۔اسی طرح غاسق کے معنے سورج کے ہیں اور وقت کے معنے غائب ہونے کے ہیں۔پس ان معنوں کے اعتبار سے وَ مِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کا مفہوم یہ بنے گا کہ میں اُس وقت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ سورج غروب ہو جائے اور سخت تاریکی چھا جائے۔قرآن کریم میں سورۃ الاحزاب میں۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمکنے والا سورج قرار دیا 1121