نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1115 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1115

ان چیزوں سے علیحدہ ہوتے تو ہمیں یہ حکم نہ دیا جاتا کہ ہم ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگیں۔مِنْ شَرِ مَا خَلق کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ان چیزوں کی برائی ہم تک پہنچ سکتی ہے اس لئے ہمیں ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے ہر وقت دعا کرنی چاہئے۔غرض ہمیں یہ بتایا گیا کہ تمام جمادات سے ہمیں شر بھی پہنچ سکتا ہے اور خیر بھی۔تمام نباتات سے ہمیں شر بھی پہنچ سکتا ہے اور خیر بھی۔اور تمام حیوانات سے ہمیں شر بھی پہنچ سکتا ہے اور خیر بھی۔اوع ہماری جڑیں ان تینوں کروں میں دبی ہوئی ہیں۔ان حالات میں ہمیں دعا سکھائی کہ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی جماداتی ، نباتاتی اور حیوانی ہستی کا خیال رکھنا چاہئے۔جب تک جڑوں کو پانی نہ دیا جائے اس وقت تک درخت سرسبز نہیں رہ سکتا۔اسی طرح انسان کی روحانیت اعلیٰ درجہ تک نہیں پہنچ سکتی جب تک وہ جمادات، نباتات اور حیوانات میں سے طیب اشیاء کو استعمال نہیں کرتا اور ان کے شرسے بچتا نہیں ہے۔اسی طرح درخت میں بعض امراض اس کی جڑوں سے پیدا ہوتی ہیں اور بعض پتوں سے۔سورۃ فلق کی ان آیات میں ہمیں ان امراض سے بچنے کا علاج بتایا ہے جو ہمیں جڑھ سے پہنچ سکتی ہیں۔پس فرمایا تمہیں دعا کرنی چاہئے کہ وہ خدا جس نے تمام مخلوقات پیدا کی ہے ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں تا کہ ہمیں تمام مخلوقات کی خیر توملتی رہے لیکن ان کا شر ہم تک نہ پہنچ سکے کیونکہ ان چیزوں کا خالق ہی اگر چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے۔وگرنہ نہیں۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں ایک اور اہم امر کی طرف بھی اُمتِ مسلمہ کے ہر فرد کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور وہ یہ کہ سورۃ الفلق سے پہلی سورۃ یعنی سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو توحید کامل کا سبق دیا تھا۔اس سورۃ کے بعد قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِ مَا خَلَقَ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اے وہ شخص جو ایمان لایا ہے ہماری ذات پر ہمارے کلام پر اور اس میں سے بھی ہمارے قرآن پر ہم اسے کہتے ہیں کہ جاؤ اور جا کر لوگوں میں اپنے اس ایمان کا اعلان کرو اور کہو اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تم لوگ دنیا میں بھروسہ کرتے ہو اپنے ماں باپ پر تم لوگ بھروسہ رکھتے ہو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں پر تم لوگ بھروسہ رکھتے ہو 1115