نُورِ ہدایت — Page 1111
آپ کی اہمیت کو زیادہ کیا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا نبی بھی آغوذ کا محتاج ہے تو تم کیوں نہیں۔بے شک ایک عام انسان تو اس لئے آعُوذُ پڑھتا ہے کہ وہ شیطان سے پناہ میں رہے اور جب وہ اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیم کہتا ہے تو وہ اپنے گناہگار ہونے کا بھی اعتراف کر لیتا ہے۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آعُوذُ پڑھنا ان معنی میں نہیں ہوسکتا کیونکہ معصوم ہیں۔اس لئے قرآن کریم میں ان سورتوں کو قُل کے ساتھ شروع کیا گیا اور اس طرف اشارہ کیا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گناہوں کو دیکھ کر آعُوذُ نہیں پڑھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لئے پڑھتے تھے تا کہ آئندہ آپ کے اور آپ کی جماعت کے خلاف شیطان کوئی کارروائی نہ کر سکے۔حمد سورۃ الفلق اور سورۃ الناس دونوں سے پہلے آغوذ کا لفظ رکھا گیا ہے۔گویا دونوں سورتیں استعاذہ کے مضمون کو لے کر آئی ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ سے انسان پناہ طلب کرتا ہے۔ما سورۃ الفلق میں زیادہ تر انسان کے سوا دوسری مخلوقات کی بُرائیوں سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور سورۃ الناس میں زیادہ تر ان فتنوں سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے جن کی ابتدا انسانوں سے ہو۔اور چونکہ یہ دونوں مضمون علیحدہ علیحدہ ہیں اس لئے ان کو علیحدہ علیحدہ سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ تم ان جملہ اشیاء کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو جو اس نے پیدا کی ہیں۔گویا مِن شَرِ مَا خَلق میں یہ اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر چیز ملے گی کیونکہ اس میں ہر چیز کے شرسے بچنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اور ہر چیز کے شر سے بچنے کی ضرورت اسے ہی ہوسکتی ہے جسے ہر چیز حاصل بھی ہو۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں قومی دعا کے علاوہ فردی طور پر بھی کمال تک پہنچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔چنانچہ رب کے معنے ہیں وہ ہستی جو انسان کو تدریجا ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچاتی ہے۔گویا قُل اَعُوذُ بِرَبِ الْفَلَقِ میں مضمون یہ ہے کہ اے خدا جو ظلمت کے بعد 1111