نُورِ ہدایت — Page 104
اسباب معلوم ہوں تو ہم کیوں مفلس رہیں ؟ عزت کے اسباب دریافت ہو جاویں تو جلد تر ذی عزت ہور ہیں۔ذلت کے اسباب معلوم ہوں تو ان سے بچیں اور ذلیل نہ ہوں۔پادشاہ ہو جانے کے اسباب دریافت ہوں تو پادشاہ بنیں۔غرض ہر وقت ہر آن میں ہم کو ضرور ہے کہ خداوند کریم کی درگاہ میں سوال کرتے رہیں کہ الہی فلاں کام میں سبب حقیقی کی راہنمائی فرما۔فلاں میں راہنمائی عطا کر۔اگر ہر وقت کاموں کی ضرورت ہو تو ہر وقت اهْدِنَا الصِّراط الْمُسْتَقیم کی ضرورت بھی لگی ہوئی ہے۔پھر صبح نماز کے بعد کئی بار اسی طرح اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کیا ساری الحمد فکروں کے ساتھ پڑھنی چاہئے۔الحكم 28 فروری 1902 صفحه (2) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالين أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ جن پر تیرا انعام ہوا۔منعم علیہ کی تفسیر خود قرآن نے کردی ہے۔مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ (النساء 70) انسانی افعال کے چار ہی مراتب ہوا کرتے ہیں۔اول مطلق کام صلاحیت سے کرنا۔اسے صالح کہتے ہیں۔دوسرے جب آقایا حاکم سر پر کھڑا ہو تو وہ اس کام کو اور بھی تیزی سے کرتے ہیں تو اسے شہید کہتے ہیں۔تیسرے ٹھیکہ کے طور پر کام کرنا جس میں انسان کو خود بخود ہی ایک فکر لگی ہوتی ہے کہ اس میں کوئی نقص نہ رہے اور بڑی دیانت سے کام لیتا ہے۔اسے صدیق کہتے ہیں۔چوتھے ایک کام میں اپنے آپ کو ایسا محوکرنا کہ وہ طبعی تقاضا ہو جاوے اور جیسے ایک مشین انجن کے زور سے خود بخود کام کرتی ہے۔بھکتی ہے، نہ ست ہوتی ہے، اسی طرح افعالِ حسنہ کا اس سے سرزد ہونا۔اسے نبی کہتے ہیں۔البد 16 فروری 1909ء) مَغْضُوبِ : یہود جن میں بے جا عداوت ہے اور علم پڑھ کر عمل نہیں کرتے۔ضالین: بہکے ہوئے نصاری۔انہوں نے اپنے نبی سے بے جا محبت کی اور علوم الہی کو 104