نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 103 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 103

تک ہوسکا لوگوں کی بہتری میں کوشش کریں گے۔سوتے ہیں مگر اس نیت سے کہ خواب سے طاقت کمانے کی حاصل ہوگی۔بدن کو صحت میں عبادت پر لگائیں گے۔وہ روزی جس سے صلہ رحمی ہو اور آپ سوال، چوری، فریب ، قمار وغیرہ وغیرہ سے آدمی بچے۔کمانے کی طاقت اُسے نیند سے حاصل ہوتی ہے اس واسطے سوتے ہیں۔لوگوں سے باتیں کرتے ہیں اس خیال سے کہ باہم محبت بڑھے، اتفاق پیدا ہو۔جو خداوند کریم کا حکم ہے اسی طرح ہر ایک کام میں رضامندی مولی مقصود ہو اور وہی مد نظر رہے تو ايَّاكَ نَعْبُدُ کے معنے صحیح ہم پر صادق آویں اور دعویٰ درست ہو۔اب چلو إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ! اس کے معنی ہیں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔یہ بھی دعوی ہے۔سچا تب ہو جب ہر کام میں ہم کو یہی خیال رہے کہ اس کا انجام اور اتمام پڑوں رضا مندی حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اور اس کی عنایت کے نہیں ہوسکتا۔اے خدا تو ہی ممد اور معاون رہ۔دیکھو کبھی زمیندار کاشتکاری کرتا ہے۔خرمن بناتا ہے۔امیدوار ہے کہ دانہ گھر کو لے جاویں۔خرمن کو آگ لگ جاتی ہے اور گناہ کی شامت وہ خرمن خاکستر کا انبار ہو جاتا ہے۔اسی کارحم ہو کہ معاصی عفو ہو جاویں اور اس خرمن سے ہم نفع اٹھاویں۔پس ضرور ہوا کہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں ذاتِ باری پر اعتما در ہے۔(احکم 28 فروری 1902 ، صفحہ 2) حمد واؤ حالیہ ہے ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور اس حال میں کہ تجھ سے مدد چاہتے ہیں کیونکہ تیرے فضل کے سوائے عبادت کی توفیق بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 فروری 1909ء) اهْدِنَا الصِّراط سے یہ مطلب ہے کہ الہی کوئی کام ہڈوں سبب واقعی نہیں ہوا کرتا اور ہم کو کاموں کے اسباب ٹھیک معلوم نہیں اس لئے ہمارے کام نہیں ہوتے۔اگر بیماری کی صحت کا ٹھیک سبب معلوم ہو تو ہمارے بیمار کیوں بیمار ر ہیں؟ اور اگر دفع افلاس کے واقعی 103