نُورِ ہدایت — Page 1092
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سورة الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔“ (تحفہ گولڑوی، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 218) الضَّالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قُلْ هُوَ الله ہے اور باقی دونوں سورتیں اس کی شرح ہیں۔۔۔۔۔سورۃ الفلق میں اس فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دعا سکھائی قتل اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ یعنی تمام مخلوق کے شر سے اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو رب الفلق ہے یعنی صبح کا مالک ہے یا روشنی ظاہر کرنا اسی کے قبضہ واقتدار میں ہے۔رَبِّ الْفَلَقِ کا لفظ بتاتا ہے کہ اس وقت عیسائیت کے فتنہ اور مسیح موعود کی تکفیر اور تو بین کے فتنہ کی اندھیری رات احاطہ کر لے گی اور پھر کھول کر کہا کہ شیر غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اور میں اس اندھیری رات کے شر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور مسیح موعود کے انکار کے فتنہ کی شب تار ہے، پناہ مانگتا ہوں۔پھر لکھا وَ مِنْ شَرِ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ اور ان زنانہ سیرت لوگوں کی شرارت سے پناہ مانگتا ہوں جو گنڈوں پر پھونکیں مارتے ہیں۔گرہوں سے مراد وہ معضلات اور مشکلات شریعت محمدیہ ہیں جن پر جاہل مخالف اعتراض کرتے ہیں اور ان کو ایک پیچیدہ صورت میں پیش کر کے لوگوں کو دھو کہ میں ڈالتے ہیں اور یہ دو قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو پادری اور ان کے دوسرے پس خوردہ کھانے والے اور دوسرے وہ ناواقف اور ضدی ملاں ہیں جو اپنی غلطی کو تو چھوڑتے نہیں اور اپنی نفسانی پھونکوں سے اس صاف دین میں اور بھی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں اور زنانہ خصلت رکھتے ہیں کہ خدا کے مامور ومرسل کے سامنے آتے نہیں۔پس ان لوگوں کی شرارتوں سے پناہ مانگتے ہیں۔اور ایسا ہی ان حاسدوں کے حسد سے پناہ مانگتے ہیں 1092