نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1068 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1068

قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدُ۔وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں، دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر یک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منز“ ہ ہونا بیان فرمایا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔سو اس سورہ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے۔دو یا تین نہیں۔اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے۔اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں۔اور وہ لم یلد ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے۔اور وہ لَمْ يُولّد ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے۔اور وه لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحه 518 حاشیه در حاشیہ نمبر (3) قرآن کریم کی صاف تعلیم یہ ہے کہ وہ خداوند وحید وحمید جو بالذات توحید کو چاہتا ہے اس نے اپنی مخلوق کو منتشارک الصفات رکھا ہے اور بعض کو بعض کا مثیل اور شبیہ قرار دیا ہے تا کسی فرد خاص کی کوئی خصوصیت جو ذات و افعال و اقوال اور صفات کے متعلق ہے اس دھوکہ 1068