نُورِ ہدایت — Page 99
ایسا بار ہا آیا ہے تو اس کے واسطے میں نے غور سے دیکھا ہے کہ مصائب اور مشکلات میں واقعی اللہ تعالیٰ کی ذات سات طرح سے الحمد للہ کہے جانے کے لائق ذات ہے۔1۔اوّل تو اس لئے کہ مصائب اور شدائد کفارہ گناہ ہوتے ہیں۔سو یہ بھی اس کا فضل ہے ور نہ قیامت میں خدا جانے ان کی سزا کیا ہے۔اس دنیا ہی میں بھگت کر نپٹ لیا۔2۔اس لئے کہ ہر مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ممکن ہے۔اُس کا فضل ہے کہ اعلیٰ اور سخت مصیبت سے بچالیا۔3۔مصائب دو قسم کے ہوتے ہیں دینی اور دنیوی ممکن ہے کہ گناہ کی سزا میں انسان کی اولا دمرتد ہو جاوے یا یہ خود ہی مرتد ہو جاوے۔یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے دینی مصائب سے بچالیا اور دنیوی مشکلات پر اکتفا کر دیا۔4۔مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اجر ملتے ہیں۔چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر یہ دعا مانگو - اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْنِي خَيْرًا مِنْهَا۔اور قرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اجر کا وعدہ ہے۔وبشرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (بقر 156 تا 158 ) یعنی مصائب پر صبر کرنے والوں اور إِنّا للہ کہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں۔5 - صلوات ہوتے ہیں ان پر اللہ کے۔6۔رحمت ہوتی ہے ان پر اللہ کی۔7۔اور آخر کا ر ہدایت یافتہ ہو کر ان کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ہے۔اب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصور آجاوے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم ، غم رہتا ہے؟ ہر گز نہیں۔پس کیسا پاک کلمہ ہے الحمد للہ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ 99