نُورِ ہدایت — Page 98
نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اور دیگر دعاؤں وغیرہ کے الفاظ اس لحاظ سے محلّ اعتراض نہیں ہو سکتے کہ جس حالت میں قرآن شریف خدائے پاک کا کلام ہے تو اس میں ایسی عبارتیں کیوں موجود ہیں جو کہ بندوں کی زبانی ہونی چاہیے تھیں۔گویا اس طریق سے خدا تعالیٰ نے ایک ادب اور طریق بارگاہ عالی میں دعا کرنے کا بتلا دیا ہے۔البدر 9 جنوری 1903 ، صفحہ 87) بسْمِ الله جهرا ( نماز میں۔مرتب) اور آہستہ پڑھنا ہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب (اللهم اغفرہ وارحمہ) جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔رض بسم اللہ جہڑا پڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب جہر انہ پڑھتے تھے۔ایسا ہی میں بھی آہستہ پڑھتا ہوں۔صحابہ میں ہر دو قسم کے گروہ ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کرو۔ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے۔ہر دو طرح جائز ہے۔بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا آمین پڑھنابر الگتا تھا تو صحابہ خوب اونچی پڑھتے تھے۔مجھے ہر دو طرح مزہ آتا ہے کوئی اونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( البدر 23 مئی 1912 ، صفحہ 3) الحمد للہ۔ایسا پاک کلمہ ہے اور اس میں ایسے سمند ر حکمت الہی کے بھرے ہوئے ہیں کہ جن کا خاتمہ ہی نہیں۔میں بعض اوقات نماز میں الحمد للہ پڑھنے کے بعد ٹھہر جاتا ہوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میں ان کے معانی میں غور و خوض کرتا ہوا غرق ہو جاتا ہوں۔دیکھو بعض وقت مجھے بھی سخت سے سخت مشکلات اور تکالیف پہنچتی ہیں کہ ان سے جان جانے کا بھی اندیشہ ہوا ہے مگر میں نے جب قرآن شریف کو شروع کیا ہے اور اس میں اول ہی اول الْحَمدُ لله سے شروع ہوا ہے اور میں نے اس آیت پر غور کیا ہے تو دل میں بسا اوقات جوش آیا ہے کہ بتاؤ تو سہی الحمد للہ کا کیا مقام ہے۔ان مصائب اور دکھوں کے سمندر میں کس طرح سے الحمد لله کہو گے اور ممکن ہے کہ دوسرے مومن کے دل میں بھی آیا ہو کیونکہ میرے دل میں 98