نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1060 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1060

جماعت النَّعْمَةُ وَالْإِحْسَانُ احسان اور نعمت۔( اقرب) الآب: الَّذِى يَتَوَلَّدُ مِنْهُ أَخَرُ مِنْ نَوْعِهِ۔یعنی اس وجود کو جس سے اسی نوع کی چیز پیدا ہوجس نوع کا وہ خود ہے آب کہتے ہیں۔یعنی والد۔نیز آب کے معنے ہیں مَن كَانَ سَبَبًا في الْجَادِ شَيْءٍ أو اضلاحه او ظهورہ جو کوئی کسی چیز کے ایجاد کرنے یا ظاہر کرنے اور وجود میں لانے کا سبب ہو اس کو بھی آب کہتے ہیں۔(اقرب) الهب: لَهَب لھب کا مصدر بھی ہے اور اسم بھی ہے۔لھبَتِ النَّارُ کے معنے ہوتے ہیں اشْتَعَلَتْ خَالِصَةً مِّنَ الدُّخَانِ آگ ایسی تیزی سے بھڑک اٹھی کہ اس میں دھواں باقی نہ رہا۔اور اللهَبُ کے معنے ہوتے ہیں۔لِسانُ النَّارِ یعنی آگ کا شعلہ۔( اقرب) پس ابو لہب کے معنے ہوں گے شعلوں کا باپ۔یعنی ایسی چیزوں کا موجد جو آگ کو بھڑ کا ئیں۔وہ حمد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دجال اور یاجوج و ماجوج کے فتنے برپا ہوں گے اور اسلام کمزور ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسلام کی حفاظت کے لئے مسیح موعود کو نازل کرے گا اور مشرق میں ظاہر ہوگا اور اس کے آنے کے بعد وجبال بلاک ہو جائے گا۔اس وقت مسلمانوں کے پاس مادی طاقت نہ ہوگی۔لیکن مسیح موعود کی جماعت دعاؤں اور تبلیغ کے ساتھ کام کرتی چلی جائے گی اور یا جوج و ماجوج آسمانی عذابوں کے ساتھ تباہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پھر اسلام کو غالب کر دے گا اور وہ دنیا کو کہے گا کہ تیری برکت تجھ میں پھر لوٹ آئے اور تھوڑا رزق لوگوں کے لئے کافی ہوگا۔حرص مٹ جائے گی اور لوگ مادیت کی بجائے روحانیت کی طرف مائل ہو جائیں گے یہاں تک کہ اسلام غالب ہو جائے گا۔الغرض اسلام کو مٹانے کے لئے جو خطرناک فتنے آخری زمانے میں پیدا ہونے والے تھے سورہ لہب میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق اور اُن کے انجام کے متعلق پیشگوئی فرمائی ہے اور کہا ہے تبت یدا ابی لَهَبٍ وتب۔یعنی اسلام کے خلاف آگ بھڑ کانے والی 1060