نُورِ ہدایت — Page 1041
لئے ویسا بن رہے ہیں یا نہیں۔اگر ویسا بنیں گے تو لازماً پھر آخر پر وہ نتیجہ پیدا ہوگا جس کی طرف سورہ فاتحہ ہمیں لے کر جا رہی ہے۔مثلاً انسان رب بن جائے یعنی اپنے رنگ میں ربوبیت کی صفات پیدا کر لے، وہ رحمان بن جائے یعنی اپنے رنگ میں اور اپنے محدود دائرہ میں وہ اپنے اندر رحمانیت کی صفات پیدا کر لے، رحیم بن جائے اور اپنے دائرہ میں اور اپنی توفیق اور استطاعت کے مطابق رحیمیت کی صفات پیدا کر لے تو لازماً پھر ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو کھولا اور فرمایا کہ سارے انبیاء میں سے صفت مالکیت کے کامل مظہر صرف حضرت محمد مصطفی ملایم بنے ہیں۔یعنی آپ صفت مالکیت کے مظہر اتم تھے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کی کامل صفات اختیار فرمائیں۔صفت رحمانیت کی بھی کامل طور پر صفات اختیار فرمائیں اور پھر آپ نے حیرت انگیز طور پر رحیمیت کی صفات بھی اختیار فرمائیں یہاں تک کہ نتیجہ آپ مالکیت تک پہنچ گئے یعنی اس خدا سے آپ کی محبت کا کامل تعلق پیدا ہو گیا جو مالک ہے۔ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر انجام اس کے ہاتھ میں ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو مالکیت میں شامل کر لیا۔آپ کو وہ بادشاہت عطا کی جو خدا کی بادشاہت تھی۔آپ کی زبان خدا کی زبان بن گئی ، آپ کا ارادہ خدا کا ارادہ بن گیا، آپ کا غضب خدا کا غضب ٹھہرا اور آپ کا رحم اللہ کا رحم کہلایا۔یہ ہے سورۃ فاتحہ میں بیان ہونے والی مالکیت کی صفت کا مفہوم جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے کھول کر بیان فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا ہر کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ انسان ان تین صفات کو اختیار کر کے اپنے خالق و مالک رب سے تعلق جوڑے تب خدا کی صفت مالکیت ان تین صفات کو چمکا دیتی ہے، ان کے استعمال کو ایک نئی شان بخشتی ہے۔ایک انسان اگر صفت رحمانیت کا مظہر ہو اور صفت مالکیت کا نہ ہو تو اس کی حد گو یا ایک معین حد ہے اس سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتا۔آپ کو کسی شخص پر کتنا ہی رحم کیوں نہ آ رہا ہو، آپ کا کتنا بھی دل چاہیے کہ آپ اس کو سب کچھ عطا کر دیں ، وہ مانگے نہ 1041