نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1040 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1040

کے ایک بیج کا دانہ کھیت میں ڈالتا ہے اور وہ بعض صورتوں میں قرآن کریم کے مطابق کئی سو گنا بھی بڑھ سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔پس پھل کے اس نظام کا رحیمیت سے تعلق ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت صفت رحیمیت کے ماتحت بار بار وہ موسم لے کر آتی ہے اور وہ حالات پیدا کر دیتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پھل لگیں اور انسان خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے کرشمے دیکھے۔غرض تبلیغ میں بھی پھل تب لگے گا اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے آپ تب موجب بنیں گے جب آپ بڑے صبر کے ساتھ اور بڑی ہمت کے ساتھ اور نہایت مستقل مزاجی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ساتھ تعلق جوڑ لیں گے اور رحیمیت کے تابع بھی بہت سی صفات ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کا یہ ایک عجیب اسلوب ہے کہ خدا تعالیٰ کی بنیادی صفات جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں ان کو ادل بدل کر مختلف مواقع پر پیش کرتا چلا جاتا ہے جس سے انسان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی صفات کی ایک تصویر کھلتی چلی جاتی ہے جن میں صفت رحیمیت کار فرما ہوتی ہے اور یہ حقیقت روشن ہونے لگتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات ان چار بنیادی صفات ہی کا پر تو ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔ایک بھی صفت ان سے باہر نظر نہیں آئے گی۔رحیمیت کا عدم کیا ہے؟ یہ صفت نہ ہو تو کیا پیدا ہوتا ہے؟ خدا کی بعض منفی صفات ( منفی تو کوئی بھی چیز نہیں ) ان معنوں میں کہ قرآن کریم میں آپ کو رحیمیت کے برعکس صفات نظر آنے لگیں گی۔اسی طرح رحمانیت نہ ہو تو دنیا میں کیا تباہی مچتی ہے وہاں آپ کو خدا تعالیٰ کی بعض ایسی صفات نظر آئیں گی جو رحمانیت کے الٹ ہیں اور ایسی صفات ان قوموں کے لئے ظاہر ہوتی ہیں جو رحمانیت سے تعلق نہیں جوڑتیں۔پس بظاہر تو حمد کی صفات ہوتی ہیں لیکن انہی کے اندر تسبیح والا مضمون بھی آجاتا ہے اور سورۃ فاتحہ کا نظام ایک مکمل نظام ہے اس پر غور کرتے ہوئے جب آپ حمد کے مضمون میں داخل ہوں تو تفصیل سے سوچا کریں کہ ہم نے کس خدا سے تعلق جوڑا ہے اور کیا ہم بندوں کے 1040