نُورِ ہدایت — Page 1012
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جبکہ آنے والی مدد اور فتح آگئی جس کا وعدہ دیا گیا تھا اور تُو نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔پس خدا کی حمد اور تسبیح کر۔یعنی یہ کہہ کہ یہ جو ہوا وہ مجھ سے نہیں بلکہ اُس کے فضل اور کرم اور تائید سے ہے۔اور الوداعی استغفار کر کیونکہ وہ رحمت کے ساتھ بہت ہی رجوع کرنے والا ہے۔استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے۔بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلل اور کمزوری کا اقرار اور مدد طلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے۔چونکہ اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے وہ پورا ہو گیا یعنی یہ کہ ہزار ہا لوگوں نے دین اسلام قبول کر لیا۔اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف بھی اشارہ ہے۔چنانچہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک برس کے اندر فوت ہو گئے۔پس ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول سے جیسا کہ خوش ہوئے تھے غمگین بھی ہوں۔کیونکہ باغ تو لگایا گیا مگر ہمیشہ کی آب پاشی کا کیا انتظام ہوا۔سو خدا تعالیٰ نے اسی غم کے دُور کرنے کے لئے استغفار کا حکم دیا۔کیونکہ لغت میں مغفرت ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے۔اسی وجہ سے مغْفَرُ جو خود کے معنی رکھتا ہے اسی میں سے نکالا گیا ہے۔اور مغفرت مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہے خدا تعالیٰ اس بلا یا اس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے۔سواس استغفار کے ضمن میں یہ وعدہ دیا گیا کہ اس دین کے لئے غم مت کھا۔خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمیشہ رحمت کے ساتھ 1012