نظام وصیت — Page 87
87 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ رسول کریم ﷺ کے پاس آتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہے تو یہ بیچ مگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ان کو تجھ پر کچھ ایمان نہیں۔(المنفقون: 2) پس ان کی تمام تعریفیں اور تمام تائیدیں جن کا وہ زبانی طور پر اظہار کرتے تھے خدا کے حضور ایک ذرہ بھر بھی قیمت نہیں رکھتی تھیں۔باوجود اظہار اخلاص کے ایسے لوگ منافق تھے اور منافقوں میں ہی خدا کے حضور شمار کئے جاتے تھے۔ایسے منافق لوگ در حقیقت ہر زمانے میں ہوتے ہیں خواہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہو خواہ رسول کریم ﷺ کا۔اور خواہ موجودہ زمانہ۔پھر ہر زمانہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو حقیقی اخلاص رکھتے ہیں۔پس ترقی حاصل کرنے والی قوموں کو ابھارنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا انسان کو وارث بنادینے والی وہی قربانی ہوتی ہے جو حقیقی ہو اور جس کا انسانی قلب کے ساتھ تعلق ہو۔ورنہ مونہہ کے خالی الفاظ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔مومن اور منافق میں مابه الامتياز ہماری جماعت میں بھی اس وقت دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں وہ بھی جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی فرما دیا تھا کہ مِنْهُم مِّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مِّنْ يَنتَظِرُ (الاحزاب : 24) یعنی کچھ تو ایسے لوگ ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا اسے پورا کر دکھایا اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب قربانی کا موقع میسر آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکیں۔پھر وہ بھی ہیں جو اپنی زبان کی تائید اور نصرت سے ایسے نمایاں اور بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں کہ گویا اگلے پچھلے تمام مومنوں کا اخلاص جمع کر کے انہیں دے دیا گیا ہے۔لیکن جب قربانی کا وقت آتا ہے، جب خدمت دین کا موقع آتا ہے تو وہ اس طرح پھسل جاتے ہیں جس طرح مچھلی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔وہ ہر مجلس میں آگے بڑھ کر باتیں بنائیں گے، مونہہ پر ان کے قربانی ہوتی ہے، لیکن دل میں نفاق ہوتا ہے۔وہ ایک مانگے کی نورانی چادر اوڑھنا چاہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جب ان کے دل سیاہ ہیں تو یہ مانگی ہوئی چادر انہیں کیونکر سفید کر سکے گی۔اور نہیں سمجھتے کہ دوسرے