نظام وصیت

by Other Authors

Page 37 of 260

نظام وصیت — Page 37

37 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ جو کام ہونا تھا وہ ہو چکا اب یورپ کے مدبر صرف لکیریں پیٹ رہے ہیں۔اسلام اور احمدیت کا نظامِ نو وہ ہے جس کی بنیاد جبر پر نہیں بلکہ محبت اور پیار پر ہے۔اس میں انسانی حریت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے، اس میں افراد کی دماغی ترقی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اس میں انفراد بیت اور عائکیت جیسے لطیف جذبات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔( نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 596 ) جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت ہرفرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اورتنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاء اللہ یتیم بھیک نہ مانگے گا، بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی، بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی ، جوانوں کی باپ ہوگی عورتوں کا سہاگ ہوگی ، اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اس کے ذریعہ مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالیٰ سے بہتر بدلہ پائے گا۔نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔پس اے دوستو ! دنیا کا نیا نظام نہ مسٹر چرچل بنا سکتے ہیں نہ مسٹر روز ویلٹ بنا سکتے ہیں۔یہ اٹلانٹک چارٹر کے دعوے سب ڈھکو سلے ہیں اور اس میں کئی نقائص ، کئی عیوب اور کئی خامیاں ہیں نئے نظام وہی لاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کئے جاتے ہیں جن کے دلوں میں نہ امیر کی دشمنی ہوتی ہے نہ غریب کی بے جا محبت ہوتی ہے، جو نہ مشرقی ہوتے ہیں نہ مغربی ، وہ خدا تعالیٰ کے پیغامبر ہوتے ہیں اور وہی تعلیم پیش کرتے ہیں جو امن قائم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہوتی ہے پس آج وہی تعلیم امن قائم کرے گی جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آئی ہے اور جس کی بنیادالوصیۃ کے ذریعہ ۱۹۰۵ء میں رکھ دی گئی ہے۔نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 601,600 )