نظام وصیت — Page 32
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 32 22 کے لحاظ سے کافی تھا۔ہاں یہ درست ہے کہ اس زمانہ میں غربت اور امارت میں وہ بعد نہ تھا جواب ہے۔اس وقت مقررہ ٹیکس اور حکومت اور افراد کو صاحب دولت لوگوں کی بر وقت امدادان اغراض کو پورا کر دیتی تھی۔تجارتی مقابلہ اس وقت اس قدر نہ تھا جو اب ہے۔مقابل کی حکومتیں اس طرح ہمسایہ ملکوں کی دولت کو با قاعدہ نہ لوٹی تھیں جیسا کہ اب لوٹتی ہیں اس لئے ہم مانتے ہیں کہ وہ انتظام آج کارگر نہیں ہوسکتا لیکن اصولی لحاظ سے وہ تعلیم آج بھی کارگر ہے۔اس وقت بغیر اس کے کہ کوئی نیا طریق ایجاد کیا جاتا اسی آمدن سے جو مقررہ ٹیکسوں یا طوعی چندوں سے حاصل ہوتی تھی گذارہ ا چلایا جا سکتا تھا پس اس وقت اسے کافی سمجھا گیا مگر وہ انتظام آج کافی نہیں ہوسکتا۔آجکل کا زمانہ منظم زمانہ ہے اس وقت دنیا کی بے چینی کو دیکھ کر حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی بیشتر دولت ان کے ہاتھ میں ہو اور اگر مذکورہ بالاتحریکیں کامیاب ہوئیں یعنی ان میں سے کوئی ایک کامیاب ہوئی تو لازماً افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور حکومتوں کے ہاتھ میں زیادہ چلا جائے گا۔بالشوزم کامیاب ہو تب بھی اور شوشلزم کامیاب ہو تب بھی نتیجہ یہی ہوگا کہ افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور ملک کی بیشتر دولت پر حکومت کا قبضہ ہو جائے گا لیکن علاوہ مذکورہ بالا نقائص کے جو اوپر بیان ہوچکے ہیں یہ نقصان بھی ہوگا کہ گو بعض ممالک زیادہ امن میں آجائیں گے مگر بعض دوسرے ممالک زیادہ دُکھ میں پڑ جائیں گے۔اس نظام کے مقابلہ میں اسلامی تعلیم کو معین صورت دینے کے لئے جو جامہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا وہ آج یقیناً کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ اب حالات مختلف ہیں۔اسی طرح بعد میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی نے ان احکام کو جو صورت دی تھی وہ آج کامیاب نہیں ہوسکتی پس ضرورت ہے کہ اس موجودہ دور میں اسلامی تعلیم کا نفاذ ایسی صورت میں کیا جائے کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو ان دنیوی تحریکوں میں ہیں اور اس قد ر روپیہ بھی اسلامی نظام کے ہاتھ میں آجائے جو موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مساوات کو قائم