نظام وصیت

by Other Authors

Page 31 of 260

نظام وصیت — Page 31

31 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ غرباء کو آرام پہنچانے کیلئے موجودہ زمانہ میں ایک نئے نظام کی ضرورت جب حکومت زیادہ پھیلی اور خلفاء کا زمانہ آیا تو اس وقت منظم رنگ میں غرباء کی ضروریات کو پورا کرنے کی جدوجہد کی جاتی تھی چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایسے رجسٹر بنائے گئے جن میں سب لوگوں کے نام ہوتے تھے اور ہر فرد کے لئے روٹی اور کپڑا مہیا کیا جا تا تھا اور فیصلہ کیا جاتا تھا کہ فی مرداتنا غلہ، اتنا گھی، اتنا کپڑا اور اتنی فلاں فلاں چیز دی جائے۔اسی طرح ہر شخص کو چاہے وہ امیر ہو یا غریب اس کی ضروریات زندگی مہیا ہو جاتی تھیں اور یہ طریق اس زمانہ کے لحاظ سے بالکل کافی تھا۔آج دنیا یہ خیال کرتی ہے کہ بالشوزم نے یہ اصول ایجاد کیا ہے کہ ہر فر دکو اس کی ضروریاتِ زندگی مہیا کی جانی چاہئیں حالانکہ یہ طریق اسلام کا پیش کردہ ہے اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس پر منظم رنگ میں عمل بھی کیا جاچکا ہے بلکہ یہاں تک تاریخوں میں آتا ہے کہ شروع میں حضرت عمرؓ نے جو فیصلہ کیا تھا اس میں ان چھوٹے بچوں کا جو شیر خوار ہوں خیال نہیں رکھا گیا تھا اور اسلامی بیت المال سے اُس وقت بچے کو مد دملنی شروع ہوتی تھی جب ماں بچے کا دودھ چھڑا دیتی تھی۔یہ دیکھ کر ایک عورت نے اپنے بچے کا دودھ چھڑا دیا تا کہ بیت المال سے اس کا بھی وظیفہ مل سکے۔ایک رات حضرت عمر گشت لگا رہے تھے کہ آپ نے ایک جھونپڑی میں سے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی حضرت عمر اندر گئے اور پوچھا کہ یہ بچہ کیوں رو رہا ہے۔اس عورت نے کہا عمر نے یہ قانون بنادیا ہے کہ جب تک بچہ دودھ پینا نہ چھوڑے اس کا وظیفہ نہیں لگ سکتا اس لئے میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تا کہ وظیفہ لگ جائے اور اسی وجہ سے یہ رورہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا واہ عمر معلوم نہیں تو نے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑوا کر آئندہ نسل کو کمزور کر دیا ہے چنانچہ اس کے بعد انہوں نے حکم دے دیا کہ پیدائش سے ہی ہر بچے کو وظیفہ ملا کرے۔پس اُس وقت یہ انتظام تھا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ انتظام اس وقت کی ضروریات اور اس زمانہ