نظام وصیت

by Other Authors

Page 28 of 260

نظام وصیت — Page 28

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 28 اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس نے اس مدعا اور مقصد کے پورا کرنے میں کس قد رسعی اور کوشش کی ہے جو ہر ایک احمدی کا اولین فرض ہے اور جس کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔اگر اس بات کو مد نظر رکھ کر تم اس بوجھ کو دیکھو گے جسے تم نے اس وقت تک اٹھایا ہے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے سارے کے سارے ایسے ہیں جنہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ کس مقصد اور مدعا کولیکر کھڑے ہوئے ہیں اور اس کے لئے کس قدرسعی اور کوشش کی ضرورت ہے۔بڑے بڑے مخلص بھی ہیں۔ایک دوست جن کی تنخواہ ساٹھ روپے ماہوار ہے انہوں نے اپنی آمدنی کے ۱/۳ حصہ کی وصیت کی ہوئی ہے یعنی ہیں روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔جب چندہ خاص کی تحریک ہوئی تو اس میں انہوں نے تین ماہ کی تنخواہ دیدی اور اس طرح وہ مقروض ہو گئے۔اس پر انہوں نے خط لکھا کہ کیا میں قرضہ ادا ہونے تک ۱/۱۰ حصہ آمد کا چندہ میں دے سکتا ہوں مگر اس سے ۶۰۵ دن بعد ان کا خط آگیا کہ مجھے پہلا خط لکھنے پر بہت افسوس ہوا۔میں اپنی آمد کا ۱/۳ حصہ ہی چندہ میں دیا کروں گا۔تو ایک حصہ جماعت کا ایسے مخلصین کا بھی ہے اور یہ بڑا حصہ ہے۔مگر میں باقیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی ایسے ہی بنیں۔اور ہماری تو یہ حالت ہونی چاہیے کہ ایک قطرہ بھی ہمارے اپنے لئے نہ ہو بلکہ ہمارے لئے وہی رہنا چاہیے جو ہمارا نہیں رہا۔یعنی جان بچانے ،ستر ڈھانکنے کیلئے جو خرچ ہو وہ کیا جائے باقی سب کچھ خدا کے لئے سمجھا جائے۔دیکھیں آپ لوگ جماعت میں داخل ہو کر جو وعدہ کرتے ہیں وہ کتنا بڑا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری جان ، ہمارا مال، ہماری عزت، ہماری آبرو، ہمارا آرام، ہماری آسائش، ہماری دولت، ہماری جائیداد غرضیکہ ہمارا سب کچھ خدا کا ہو گیا۔یہ بیعت کے معنے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ خدا ہی کا ہے۔مثلاً سور و پیہ تنخواہ ہے تو اس کی نہیں بلکہ خدا کے لئے ہوگئی۔پھر جو کچھ میں جان بھی شامل ہے، یہ بھی اس کی نہیں، پھر جو کچھ میں بیوی بچے ہیں یہ بھی اس کے نہیں ، کوئی عزت اور عہدہ ہے یہ بھی اس کا نہیں۔یہ اقرار کرنے کے بعد اگر کوئی شخص چندہ خاص کے وقت کہے کہ یہ بہت بڑا