نظام وصیت — Page 27
27 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ اُن پر کتبے لگے ہیں کہ یہ فلاں وقت مارا گیا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خدا کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور ایسی ایسی تکلیفیں برداشت کی تھیں جن کا خیال کر کے اب بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری علیہ السلام سے بڑے تھے۔پھر آپ لوگوں کو یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ ہماری قربانیاں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں سے بڑی ہوں۔مگر کیا اس وقت تک کی ہماری قربانیاں ایسی ہیں؟ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔جو وصیت نہیں کرتا وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ 1/10 حصہ مال کا رکھا ہے جس میں عام چندہ جو وقتا فوقتا کرنا پڑے شامل نہیں۔مگر ہماری جماعت اس وقت اپنی آمد کا 1/16 حصہ چندہ میں دیتی ہے اور بعض یہ بھی نہیں دیتے بلکہ اس سے کم شرح سے دیتے ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں دیتے مگر باوجود اس کے کہا جاتا ہے ہم پر بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جو کام کرنے کا ہم نے تہیہ کیا ہے وہ کتنا بڑا ہے۔اب جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر بڑا بوجھ پڑ گیا اُن کی حالت اُس شخص کی سی ہے جو ہاتھی اُٹھانے کیلئے جائے اور جب اُٹھانے لگے تو کہے یہ تو بڑا بوجھ ہے یا اُس شخص کی سی ہے جو اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارا پکڑنا چاہے اور پھر کہے اس سے تو ہاتھ جتا ہے۔پس جو قوم یہ کہتی ہے کہ وہ دنیا کو اس طرح اُڑا دینے کی کوشش کر رہی ہے جس طرح ڈائنامیٹ پہاڑ کو اڑا دیتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ڈائنامیٹ کی طرح پھٹ کر اپنے آپ کو تباہ کرلے۔کیا کبھی بارود خود قائم رہ کر کسی چیز کو اڑا اسکتا ہے؟ یا ڈائنامیٹ اپنے آپ کو تباہ کئے بغیر کوئی تغیر پیدا کرسکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو تمہیں اسی طرح کرنا پڑیگا۔اگر تم تھوڑے سے ہو کر دنیا کو فتح کرنا چاہتے ہو تو ڈائنامیٹ بن کر ہی فتح کر سکتے ہو کیونکہ تھوڑا سا ڈائنامیٹ ہی ہوتا ہے جو ایک بڑے خطہ کو تہہ وبالا کر دیتا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم دنیا کو اڑانے سے پہلے آپ اُڑ جائیں گے۔کیا یہ حالت تم میں پیدا ہو گئی ہے اور اس درجہ تک تم پہنچ گئے ہو؟ اگر نہیں تو ساری دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہوئے کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تم پر بہت بوجھ پڑ گیا تم میں سے ہر ایک کو