نظام وصیت — Page 22
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 22 اسلام کے لیے ایسے مال بھی بہت اکٹھے ہو جائیں گے اور ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام اموران اموال سے انجام پذیر ہو نگے اور جب ایک گروہ جو متکفل اس کام کا ہے فوت ہو جائے گا تو وہ لوگ جو ان کے جانشین ہونگے اُن کا بھی یہی فرض ہو گا کہ اُن تمام خدمات کو حسب ہدایت سلسلہ احمد یہ بجالا و ہیں۔ان اموال میں سے اُن یتیموں اور مسکینوں اور نو مسلموں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔اور جائز ہوگا کہ اُن اموال کو بطور تجارت کے ترقی دی جائے۔یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس باتیں ہیں بلکہ یہ اُس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جوایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپرد ایسے مال کیے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لیے کام کریں ہاں جائز ہوگا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ ہو اُن کو بطور مد دخر چ اس میں سے دیا جائے۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319) انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہو گا اُس کو اختیار نہیں ہوگا کہ بجز اغراض سلسلہ احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے۔اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعت اسلام ہوگی اور جائز ہوگا کہ انجمن با تفاق رائے اس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ ترقی دے۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 325) تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹاؤ اب میں پھر یہ ذکر کر کے اس کو ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جہاں میری وفات کی خبر دی ہے یہ بھی فرمایا ہے لَا نُبقى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكرًا۔جو مامور ہو کر آتا ہے۔بڑا اعتراض عظمندوں کا یہ ہوتا ہے کہ وہ مر گیا کام کیا کیا؟ یہ مہذب لوگ کہتے ہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کیا تھا کہ کسر صلیب ہوگا اور یہ