نظام وصیت

by Other Authors

Page 21 of 260

نظام وصیت — Page 21

21 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ شمالی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گزرگاہ ہے اس لیے وہاں ایک پل تیار کیا جائے گا اور ان متفرق مصارف کے لیے دو ہزار روپیہ درکار ہو گا سو کل یہ تین ہزار روپیہ ہوا جو اس تمام کام کی تکمیل کے لیے خرچ ہو گا۔سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لیے چندہ داخل کرے۔اور یہ چندہ محض انہیں لوگوں طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے۔بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نورالدین صاحب کے پاس آنا چاہیے لیکن اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔اس صورت میں ایک انجمن چاہیے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتا فوقتا جمع ہوتا رہے گا۔اعلاء کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں۔(۲) دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا جو یہ وصیت کرے جو اُس کی موت کے بعد دسواں حصہ اُس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا۔اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے۔لیکن اس سے کم نہیں ہوگا۔(۳) تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو سچا اور صاف مسلمان ہو۔(۴) ہر ایک صالح جو اُس کی کوئی بھی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لیے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 318 تا 320 کی اغراض و مقاصد اور اموال کے مصارف یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپر در ہے گی اور وہ باہمی مشورہ سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لیے حسب ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گے۔اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سلسلہ کو ترقی دیگا اس لیے امید کی جاتی ہے کہ اشاعت