نظام وصیت

by Other Authors

Page 240 of 260

نظام وصیت — Page 240

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 240 دیں تو اس کا صحیح مصرف ہو گا۔۔۔۔۔اس کتاب ”رسالہ الوصیت کے آخر میں آپ نے ان تقویٰ شعار لوگوں اور ایمان میں بڑھنے والوں کے لئے جنہوں نے اعلیٰ ترین معیار کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس مالی نظام کا حصہ بنے جو آپ نے جاری فرمایا تھا اور جس کا اعلان آپ نے فرمایا تھا کہ جو اپنی آمد اور جائیدادوں کی وصیت کریں گے، اس سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن اور کتب دینیہ اور سلسلہ کے واعظوں کے لئے خرچ ہوں گے۔آپ نے فرمایا ان اموال میں سے ان خر چوں کے علاوہ ان یتیموں اور مسکینوں اور نومسلموں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔“ رساله الوصیت روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 319) آپ نے فرمایا کہ مجھے یقین ہے یہ اموال جمع ہوں گے اور کام جاری ہوں گے کیونکہ یہ اُس خدا کا وعدہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔آپ نے ایسے لوگوں کو جو اس وصیت کے نظام میں شامل ہوں گے اور دین اور مخلوق کی مالی اعانت کریں گے۔دعاؤں سے بھی نوازا۔یہ وصیت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو مقبرہ موصیان یا بہشتی مقبرے میں دفن ہوں گے فرمایا: ”اے میرے قادر کریم ! اے خدائے غفور و رحیم ! تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور اطاعت کا ہے بجالاتے ہیں۔رساله الوصیت روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 317) پس جو لوگ میں شامل ہیں اُن کے ایمان، اطاعت اور قربانیوں کے معیار بھی ہمیشہ بڑھتے چلے جانے چاہئیں۔انہوں نے ایک عہد کیا ہے۔اس لئے وصیت کرنے کے بعد پھر تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش بھی پہلے سے زیادہ ہونی چاہئے۔خلافت سے وفا کا تعلق بھی پہلے سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ ہر احمدی کو اس میں ترقی کرتے چلے جانے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔نظام خلافت کے انہی وعدوں سے فیض پانے کی ہر احمدی کو تو فیق ملتی رہے تا کہ یہ نظام ہمیشہ جاری