نظام وصیت — Page 198
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 198 2۔دوسرے درجہ پر وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن باہر چلے گئے ہیں مثلاً امریکہ میں ڈاکٹر ہیں دوسرے پیشہ ور ہیں۔ابوظہبی ، Middle East وغیرہ میں سعودی عرب کے ملحقہ ممالک میں اور یورپ میں بھی خود انگلستان میں بھی ہیں۔اکثر وہ جو ہندوستان کے باشندے باہر گئے ہیں ان کی مالی حالت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی تبدیل ہو چکی ہے۔کوئی نسبت ہی نہیں رہی اس حالت سے جو ہندوستان میں چھوڑ کر آئے تھے اور اگر یہ سارے چاہیں تو چالیس لاکھ کیا سارے چندوں کے علاوہ بھی یہ کروڑوں روپیہ پیش کر سکتے ہیں۔بعض ان میں سے ایک ایک شخص پر خدا کا اتنا افضل ہے کہ وہ بلا مبالغہ کروڑ پتی ہو چکے ہیں۔اس لئے دوسرے نمبر پران کی ذمہ داری ہے۔پہلے میں نے قادیان کو منع کیا تھا کہ وہ براہ راست باہر بسنے والے ہندوستانیوں کو کوئی اپیل نہیں کریں گے۔ابھی بھی یہ جاری ہے اس کو میں منسوخ نہیں کر رہا۔مگر میں اپیل کر رہا ہوں ان ہندوستان نژاد احمدیوں سے کہ وہ اس مالی قربانی میں آگے آئیں اور ہندوستان کی ساری ضرورتیں پوری کریں۔3۔اور تیسرے درجے پر میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی انفرادی طور پر یہ حق جتلاے، جماعتی تحریک نہیں ہوگی کہ قادیان کا تعلق ساری دنیا کی جماعتوں سے ہے ہمیں بھی تعلق ہے، ہم اپنے دل کے جذبہ سے مجبور ہو کر انفرادی طور پر حق مانگتے ہیں کہ ہمیں شامل کر لیا جائے تو ایسے شخص کی قربانی کو رد نہیں کیا جائے گا۔کسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ یہ سمجھے چونکہ عام تحریک ان سے نہیں کی گئی تھی اس لئے ان سے قبول ہی کچھ نہیں کرنا۔ان تین اصولوں کے تابع میں اس تحریک کا اعلان کرتا ہوں کہ ہندوستان کی ضرورتوں اور فوری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جماعت کو کم از کم چالیس لاکھ رو پیدا کٹھا کرنا چاہئے اور ساتھ یہ بھی آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ ضرورتیں بہر حال پوری ہوں گی۔اول تو مجھے یقین ہے انشاء اللہ کہ جس طرح آج تک ہمیشہ خدا نے سلوک فرمایا ہے۔تنگی کے باوجود ہر قسم کے حالات کی خرابی کے باوجود جماعت مالی قربانی میں ایسا اعلیٰ معیار دکھاتی ہے کہ عقل ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔یقین نہیں