نظام وصیت — Page 194
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 194 جب ہجرت ہوئی تو اس وقت ہندوستان کی جماعتوں کی حالت بہت کمزور تھی الا ماشاء اللہ اور قادیان میں بھی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ تحریک کی کہ ساری دنیا کی جماعتوں پر مرکز اول قادیان کی ذمہ داری ہے اس لئے وہ اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مالی قربانیاں کریں اور صرف ہندوستان والوں پر یہ ذمہ داری عاید نہیں ہوتی۔مختلف ادوار میں اس بیرونی امداد کی مختلف شکلیں بنتی رہیں۔یہاں تک کہ بالآخر الا ماشاء اللہ سوائے صدقہ و خیرات کے اور کوئی رقم باہر سے قادیان نہ بھجوائی گئی۔یا قربانی کی کھالیں یا صدقہ کی رقوم۔اس کے کئی قسم کے نقصانات پہنچے ہیں ان کی تفصیل میں اس وقت جانے کی ضرورت نہیں۔جو قادیان کے درویشوں کے نفس کا وقار تھا، ان کی قربانی کی عظمت تھی وہ بھی مجروح ہوئی ان باتوں سے اور ہندوستان کی جماعتوں کی مالی قربانی کے معیار پر بھی برا اثر پڑا۔مگر پہلے ایک وقت ایسا تھا جب کہ ہندوستان میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو ان صدقہ وخیرات کے علاوہ بھی جماعت کی بڑی بڑی ضروریات پر خرچ کرنے پر تیار رہتے تھے۔گو چند تھے گنتی کے لیکن اس معاملہ میں نمایاں حیثیت رکھنے والے لوگ تھے۔اس کے فوائد بھی بہت ہوئے۔قادیان کی اور ہندوستان کی جماعتوں کی ضرورتیں بڑی دیر تک ان قربانی کرنے والوں کے ذریعہ پوری ہوتی رہیں۔لیکن اللہ تعالی ایک الہی جماعت تیار کرنا چاہتا ہے قربانی کرنے والوں کی۔ایک یا دو یا چند آدمیوں کی قربانی سے جماعت کی قربانی کا فرض پورا نہیں ہوتا اور قربانی کا یہ مفہوم کہ ضرورت پوری ہو جائے یہ تو محض دنیاوی مفہوم ہے۔دین میں قربانی پیش کرنے کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی اہم ضرورت پوری ہو بلکہ ایک لازمی اثر اس کا یہ ہے کہ جو شخص قربانی کرنے والا ہے اس کا دل پاک اور صاف ہو۔اس کا مرتبہ خدا کے نزدیک بلند ہو اور اس کے اندار ایک پاکیزگی پیدا ہو، اس کی روح میں ایک جلا آ جائے اسکے نتیجہ میں۔چنانچہ اگر جماعت پوری کی پوری قربانی میں شامل نہ ہو یا اپنے معیار کو بلند نہ کر رہی ہو تو چند آدمیوں کی قربانی چاہے آسمان سے باتیں کر رہی ہو عمومی طور پر جماعت نقصان میں رہے گی۔