نظام وصیت — Page 186
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 186 جب زیادہ قانون بننے شروع ہو جائیں تو بعض دفعہ چھلکا ہی چھلکا رہ جاتا ہے اندر سے گودا غا ئب ہونے لگتا ہے۔بہت موٹے چھلکوں والے پھل بعض دفعہ اتنے موٹے چھلکوں والے ہو جاتے ہیں کہ اندر نام کا گودا باقی رہ جاتا ہے۔تو تنظیموں کو وقتاً فوقتاً اس بات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کہ قانون روح کی حفاظت کر بھی رہا ہے یا نہیں یا خودروح کو مارنے کا موجب بن رہا ہے۔وصیت کے معاملہ میں بھی کچھ خرابیاں زائد قوانین بنانے کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں۔مثلاً عورتوں کی طرف سے یہ شکوہ پیدا ہوا کہ صاحب جائیداد کے لئے وصیت آسان ہے وہ چاہے تو جائیداد کی 1/10 کی وصیت کر کے اس نظام میں شامل ہو سکتا ہے۔مگر اکثر عورتیں صاحب جائیداد نہیں ہوتیں اور آمد بھی ان کی براہ راست نہیں ہوتی بلکہ خاوند کی آمد ہوتی ہے۔تو وہ بیچاریاں جو ویسے نیکی اور تقویٰ کے معیار میں اعلیٰ درجہ پر یا صف اول میں ہیں محض اس لئے کہ جائیداد نہیں ہے وہ کیوں اس نیکی عظیم الشان قربانی سے محروم کی جاتی ہیں؟ اس کے کئی پہلو سے جواب دیئے جاسکتے تھے لیکن ان کی مشکل حل کرنے کے لئے ایک یہ قانون بنا دیا گیا کہ حق مہر بھی عورت کی جائیداد متصور ہوگا۔جو شخص کسی عورت کے لئے حق مہر مقرر کرتا ہے اس کی بیوی کو گو یا جائیدا دل گئی اور وہ چاہے تو اس کے 1/10 کی وصیت کر سکتی ہے۔قانون تو اس لئے بنایا گیا تھا کہ جو اعلیٰ مالی قربانی کی روح رکھنے والے لوگ ہیں وہ محروم نہ رہیں۔مگر اس قانون کے چور دروازے سے وہ لوگ داخل ہونے لگ گئے جو اعلیٰ قربانی کی روح نہیں رکھتے تھے۔کسی خاوند نے فرضی ایک تمہیں روپے کسی کا مہر رکھا ہوا ہے اور ویسے بہت صاحب حیثیت ہے۔بعض دفعہ پرانے زمانوں میں دس، دس روپے مہر بھی رکھے گئے اور مہر رکھتے وقت بعض دفعہ خاوند کی حیثیت اور تھی اور بعد میں جب عورت نے وصیت کی اس وقت خاوند کی حیثیت اور ہو چکی تھی۔بعض دفعہ اچھی حیثیت کے باوجو د رسماً اور رواج یا ویسے ہی عورتوں کی حق تلفی کرتے ہوئے پورا حق مہر نہیں رکھا گیا۔تو قانون جو بن گیا کہ حق مہر جائیداد متصور ہوگا تو کثرت سے ایسی وصیتیں آنی شروع ہو گئیں جن میں وصیت کی روح موجود نہیں تھی قانون کا تقاضا پورا ہو رہا تھا۔