نظام وصیت

by Other Authors

Page 182 of 260

نظام وصیت — Page 182

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 182 لائے ہو پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تو کوئی سودا بازی ہوگی ، نہ کوئی دوستی کام آئے گی ، نہ کوئی سفارش چلے گی تم اللہ کی راہ میں جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔اس آیت میں سودا بازی والا حصہ ہے اس کے سمجھنے میں کچھ اشکال ہیں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں۔جب اسی مضمون کو قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں زیادہ وضاحت سے دیکھتے ہیں تو اور بھی زیادہ اس معاملے کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔دوسری جگہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اُس دن سے ڈرو جس دن تمہارے گناہوں کے بدلے میں کوئی بھی اس کے برابر وزن کا مال قبول نہیں کیا جائے گا۔مطلب یہ ہے کہ تم اموال دے کر خدا سے اپنی جانوں کو چھڑا نہیں سکو گے۔ایک اور جگہ یہ فرمایا کہ اگر پہاڑوں کے برابر سونا بھی پیش کرو تو وہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور ر د کر دیا جائے گا۔دو باتیں ذہن میں اُبھرتی ہیں۔اول یہ کہ مرنے کے بعد تو انسان مادی دنیا کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور کچھ بھی یہاں سے وہاں منتقل نہیں کر سکتا اس لئے کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ کوئی عدل پیش کرے یا اس سے بڑھ کر کچھ پیش کرے یا سودا بازی کا کسی قسم گمان بھی اس کے دل میں پیدا ہو۔دوسرے قرآن کریم تو خود وضاحت سے فرما رہا ہے کہ يَوْمُ الدِّينِ تو وہ دن ہے يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَبِذٍ لِلَّهِ (الانفطار :۲۰) کہ جو کچھ کسی کا تھا بھی وہ بھی اس کا نہیں رہے گا ، تمام ملکیت ، تمام کائنات کلیہ اپنے مالک رب کی طرف لوٹ چکی ہوگی۔يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا نہ کوئی اپنی جان کے لئے کسی چیز کا مالک ہوگا نہ کسی دوسری جان کے لئے کسی چیز کا مالک ہوگا۔تو اس کے بعد اس بے چارے نے سودا بازی کیا کرنی ہے اور کیا پیش کرنا ہے ، کیا عدل کا خیال، کیا اس سے بڑھ کر دینے کا تصور، یہ ساری باتیں موہوم اور بے تعلق ہی دکھائی دینے لگتی ہیں۔اس لئے لازماً اس آیت کا کوئی ایسا مفہوم ہے جو اطلاق پاتا ہے، جو ایک حقیقت رکھتا ہے اور اسے سمجھے بغیر اس مضمون کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا جس کی طرف خدا تعالیٰ توجہ دلا رہا ہے۔جب ہم دنیا میں مالی قربانی پر نظر ڈالتے ہیں تو دو قسم کی مالی قربانی دکھائی دیتی ہے اور قسموں کے علاوہ