نظام وصیت — Page 171
171 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ باتیں کھول کر بیان کر دی ہیں۔۔۔۔جیسا کہ میں نے ابھی رسالہ الوصیت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پڑھ کر سنایا ہے۔اس میں جہاں خلافت کا ذکر ہے وہیں آپ نے فرمایا ہے: ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جوز مین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔“ اور یہی مقصد ہے جس کے حصول کے لئے خلافت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔خلافت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِہ کی جو بشارت دی گئی تھی۔اس کے مطابق جو روحانی انقلاب پیدا کرنا ہے اس کے لئے ایک منصوبہ بنایا جائے اور اس پر عمل کروایا جائے۔پس خلافت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ دعاؤں کے ساتھ ، اخلاق کے ساتھ،حسنِ معاملہ کے ساتھ اور حسن مجادلہ کے ساتھ یعنی احسن رنگ میں تبادلہ خیالات کرتے ہوئے دنیا کے دل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جائیں۔قرآنی تعلیم اور اسلامی شریعت میں بڑی طاقت ہے۔اسلامی شریعت و ہدایت کو کسی مادی طاقت کی ضرورت نہیں۔اسلامی تعلیم کے اندر اس قدر حسن پایا جاتا ہے اور اس کے اندر اس قدر احسان پایا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان جس کے سامنے اس کے حسن و احسان کی باتیں کی جائیں اس کا دل اس کی طرف مائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔پس یہ وہ غرض اور مقصد ہے جس کے لئے مہدی و مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا گیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے یعنی بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانے کے لئے ایک مرکزی نقطہ یعنی خلافت احمدیہ کو قائم کر دیا۔گیا ہے۔اب یہ آپ کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے ارادوں کو پورا کرنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کی جنتوں میں بطور لیڈر داخل ہونے کے لئے یعنی ساری دنیا آپ کے پیچھے چل کر خدا کی جنتوں میں داخل ہونے والی ہو، آپ خلافت احمدیہ کے اس مرکزی نقطہ کو مضبوطی سے پکڑ رکھیں اور اپنی نسلوں کو بھی اس کی اہمیت بتائیں سبیل الرشاد جلد دوم صفحه 351 تا 353