نظام وصیت

by Other Authors

Page 170 of 260

نظام وصیت — Page 170

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 170 ابتداء میں ہے اس میں شک نہیں لیکن وہ ایک نظام ہے جس کی طرف ساری دنیا میں توجہ پیدا ہورہی ہے۔مثلاً امریکہ جو مادی دنیا میں پھنسا ہوا ہے وہاں ہمارے احمدی دوستوں میں یہ رو پیدا ہوگئی ہے کہ وصیت کرنی چاہئے پھر ان میں یہ خیال پیدا ہوا کہ بہشتی مقبرے میں کیسے جائیں گے۔بہشتی مقبرہ کی شاخیں ہونی چاہئیں یا کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے جہاں اکٹھے ہو کر دعائیں ہو جائیں۔وہ بہشتی مقبرہ تو نہیں ہو گا لیکن بہر حال اس سے ملتی جلتی کوئی چیز ہوگی کہ جس سے وہ مقصد پورا ہو جائے کہ جو مالی قربانیاں کرنے والے ہیں اُن کے لئے دعائیں ہوتی رہیں۔پس یہ ہے جو د نیوی لحاظ سے ایک انقلابی نظام ہے۔رسالہ الوصیت کی رُو سے دوسرا نظام ایک روحانی نظام اور نہایت عظیم نظام ہے اور وہ ہے نظام خلافت اور یہی جماعت احمدیہ کا مرکزی نقطہ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں فرمایا ہے کہ جس قسم کی زبر دست قدرت کا ہاتھ خدا تعالیٰ میری زندگی میں دکھا رہا ہے ( جو لوگ آپ کی کتابوں کو پڑھتے ہیں وہ پھر غور سے پڑھیں بہت کم لوگ اس طرف توجہ کرتے ہیں ) آپ نے فرمایا ہے کہ جس قسم کی زبر دست قدرت کا ہاتھ خدا تعالیٰ میرے ذریعہ سے دکھا رہا ہے اور جس زبر دست قدرت کا میں مظہر ہوں۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ قیامت تک اس قسم کی قدرت اب تم میں نہیں آئے گی۔لیکن آپ نے فرمایا کہ مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔خدا تعالیٰ اپنی زبر دست قدرت کا ایک اور ہاتھ دکھائے گا اور اسے آپ نے قدرت ثانیہ کہا ہے۔آپ نے فرمایا میرے بعد ایسے وجود ہوں گے جو قدرت ثانیہ کے مظہر بنیں گے اور اس زبر دست قدرت یعنی قدرت ثانیہ کا ظہور میرے مرنے کے معا بعد شروع ہو جائے گا۔اس میں کوئی فاصلہ نہیں ہو گا کہ تمہیں سو سال تک انتظار کرنا پڑے۔دوسرے آپ نے فرمایا کہ قدرت ثانیہ کے ظہور کا سلسلہ قیامت تک ممتد ہے یہ منقطع نہیں ہوگا۔خدا تعالیٰ اپنی زبر دست قدرتوں کا ہاتھ قیامت تک دکھاتا رہے گا مظاہر قدرت ثانیہ کے ذریعہ سے۔اور یہ سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔پس جب یہ قدرت ثانیہ کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہونا۔تو ظاہر ہے کہ قدرت اولی تو بیچ میں نہیں آئے گی۔